کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر
کپی کا بچہ
تھا کپی کا بچہ اک درویش پاسباش و بود اس کی تھی مجھ دل ریش پاس
اس قلندر نے بہ حسب احتیاجبیچنے اس کو نکالا لاعلاج
میں نے اس کو ایک جا دلوا دیامول ٹھہرا تھا جو کچھ سو لا دیا
بوزنہ یا کوئی تحفہ دہر کاعزت افزا بندرابن شہر کا
نام منوا اس کا اب مشہور ہےشوخی اس کی ہر کہیں مذکور ہے
ہے ہنومانی نسب یہ باب دیدقابل وصف اس کے حضرت بوحمید
ہے جو لکھو بندری مشہور اباس کی جد مادری تھی بوالعجب
اس کے پردادا نے ہے یہ حرف دیایک دم لابہ میں لنکا پھونک دی
ایک چنچل ہے بلاے روزگارہاتھ رہ جائے تو پا سرگرم کار
ہے تو بچہ سا ولیکن دور ہےپست اس کی جست کا لنگور ہے
کیا کوئی انداز شوخی کا کہےہو معلق زن تو آدم تک رہے
اچپلاہٹ اس کی سب معلوم ہےمعرکوں میں چوک کے اک دھوم ہے
ہوتے ہیں قراد کب دیکھے سے سیراچپلی اس کی رہے ہے یاد دیر
حرکتیں دلکش ہیں سب انداز خوبپر ضروری ہے کہ ہاتھوں میں ہو چوب
ورنہ بوٹا سا جو قد ہے جھاڑ ہےکٹکھنا نچنا ہے کپڑے پھاڑ ہے
لونڈی باندی سب کو اس سے احترازڈر سے اکثر بیبیوں کے دل گداز
یہ جو چاہے چھوٹے تو تدبیر کیارسی ڈوری لوہے کی زنجیر کیا
ربط اسے جس سے ہے اس سے ربط ہےمار کھانے پر بھی اس کو ضبط ہے
جب وہ چھوٹے شور و ہنگامے رہیںاب تو چھوٹا اب تو چھوٹا سب کہیں
چھوٹتا ہے گر پڑے کوئی بجوگبندروں سے ناچتے پھرتے ہیں لوگ
ہوتے ہیں اس جنس میں بھی ذی خردآدم و حیواں میں یہ برزخ ہیں بد
طنز ہے یہ بات اگرچہ ہے کہیجو کرے انسان تو بوزینہ بھی
لیکن اس جاگہ تو صادق ہے یہ قولسارے اس کے آدمی کے سے ہیں ڈول
ہے تماشا آئینے کے روبروعکس سے اپنے اسے ہے گفتگو
دیکھنا جھک جھک کے اس کا ہو نہ ضبطآرسی بندر کا ہے مشہور ربط
گاہ بوسہ گاہ غرغر بولناگاہ آنکھیں موندنا گہ کھولنا
آگے تھا اک بوزنہ شطرنج بازچال سے اس کی نکلتا امتیاز
کہنہ قرادوں سے ہم کو یاد ہےیہ اسی فتان کا داماد ہے
جان دیں بندر اگر دیکھیں چنےرہتے ہیں چانول پڑے اس کے کنے
آنکھ کب دوڑے ہے اس کی ہر طرفہے یہ اپنے نوع کا فخر و شرف
الغرض منوا عبارت جاں سے ہےنام اس دلکش کا منوا یاں سے ہے
خوش رہے منوا تو خوش احوال میرؔورنہ آدم ہے جوانی میں بھی پیر
دہر میں یارب نہ یہ محزوں رہےجس کا منوا ہے اسے میموں رہے
۵۷۶ / ۵۸۲