کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر

کیا لڑکے دلی کے ہیں عیار اور نٹ کھٹ

۱

کیا لڑکے دلی کے ہیں عیار اور نٹ کھٹدل لیں ہیں یوں کہ ہرگز ہوتی نہیں ہے آہٹ

۲

ہم عاشقوں کو مرتے کیا دیر کچھ لگے ہےچٹ جن نے دل پہ کھائی وہ ہو گیا ہے چٹ پٹ

۳

دل ہے جدھر کو اودھر کچھ آگ سی لگی تھیاس پہلو ہم جو لیٹے جل جل گئی ہے کروٹ

۴

کلیوں کو تو نے چٹ چٹ اے باغباں جو توڑابلبل کے دل جگر کو ظالم لگی ہے کیا چٹ

۵

جی ہی ہٹے نہ میرا تو اس کو کیا کروں میںہر چند بیٹھتا ہوں مجلس میں اس سے ہٹ ہٹ

۶

دیتی ہے طول بلبل کیا نالہ و فغاں کودل کے الجھنے سے ہیں یہ عاشقوں کی پھٹ پھٹ

۷

مردے نہ تھے ہم ایسے دریا پہ جب تھا تکیہاس گھاٹ گاہ و بیگہ رہنے لگا تھا جمگھٹ

۸

رک رک کے دل ہمارا بے تاب کیوں نہ ہووےکثرت سے درد و غم کی رہتا ہے اس پہ جھرمٹ

۹

شب میرؔ سے ملے ہم اک وہم رہ گیا ہےاس کے خیال مو میں اب تو گیا بہت لٹ

۵۷۷ / ۵۸۲