گردوں نے کس بلا کو یہ کر دیا اشارہ
ہے عابدیں جو باقی بیمار و ناتواں ہےدرپیش پھر سفر ہے ساتھ اس کے کارواں ہےدلجوئی سکینہ کیا ہوسکے عیاں ہےشور اک اٹھا جو ان نے بابا کے تیں پکارا
About this couplet
This is couplet 11 of 16 in “گردوں نے کس بلا کو یہ کر دیا اشارہ” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (کلامِ میر).
Read it in the poem۱۱ / ۱۶