گردوں نے کس بلا کو یہ کر دیا اشارہ
دادا کی اور منھ کر رویا یہ کہہ کے پوتاکاے جد پاک سایہ تیرا جو سر پہ ہوتاتو جان اپنی اکبر یوں رائیگاں نہ کھوتاہم پر ستم نہ ہوتا اس طرح آشکارا
About this couplet
This is couplet 12 of 16 in “گردوں نے کس بلا کو یہ کر دیا اشارہ” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (کلامِ میر).
Read it in the poem۱۲ / ۱۶