کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر
کیا گردوں نے فتنے کو اشارہ
کیا گردوں نے فتنے کو اشارہبلا کو کربلا میں لا اتاراہوا آخر طلب سید ہمارالٹا ناموس پیغمبرؐ کا سارا
مروت شامیوں سے بن نہ آئیہوئی یہ چشم و روے بے وفائیستم کی تیغ سب نے آزمائیحسین ابن علی کو جس سے مارا
رہا جو عابدیں سو زار و بیماراٹھانا یک قدم کا جس پہ دشواربلا کا مبتلا غم کا گرفتارغریب و بیکس و بے یار و یارا
خطاب اس کا تھا ہر دم آسماں کوکہ ہم بے طالعوں غم دیدگاں کودکھایا تونے تیرہ کر جہاں کومگر رکھتے نہ تھے ہم سب ستارہ
فلک تونے عجب چوپڑ بچھائیسمجھ میں چال تیری کچھ نہ آئیامام دیں نے جاں بازی لگائیموا لیکن نہ اپنے جی کو ہارا
چلا وہ قافلہ لوٹا ہوا سبانھوں کا پیش رو عابد جسے تبکوئی روتا کسو کے نالہ بر لبکسو کی زندگانی ناگوارا
پڑی راہ اس طرف اس کارواں کیجہاں لاشیں پڑی تھیں کشتگاں کیہر اک نے خونچکاں لب سے فغاں کیہوا آشوب محشر آشکارا
کوئی رو رو کے زہرا کو پکاریکہ دیکھو خوار ہے اولاد سارینہیں لیتیں خبر جو تم ہماریہوا شاید جگر پتھر تمھارا
کیا ہے چرخ نے ناشاد ہم کودیا ہے اس طرح برباد ہم کونہیں کرتیں جو مطلق یاد ہم کومگر تم نے ہمیں دل سے بسارا
ضرورت ہے کہ ہو ٹک تم بھی آگہمصیبت پڑ گئی ہے ہم پہ ناگہہمارا حال ہے رونے کی جاگہکرے امت کھڑی ہوکر نظارہ
جگر ہم سب کے اس غم سے پھٹے ہیںشجر اس باغ کے سارے کٹے ہیںگل و بوٹے بھی ماٹی میں اٹے ہیںجفا کا ہر طرف چلتا ہے آرا
نہیں بھائی بھتیجوں کا ٹھکانامیسر سب کو آیا جی سے جاناکسو کا تن ہے تیروں کا نشانہکسو کا سر ہوا ہے چارپارہ
جہاں ہم کو اسیروں کا کوا ہےہمارا تشنہ لب صاحب موا ہےستم آگے کہیں ایسا ہوا ہےٹک اک انصاف سے دیکھو خدارا
فرات اوپر کسو کا تھا کنایہکہ اے بے تہ نہ تھا کیا اتنا پایہحسین ابن علی پیاسا کھپایاگیا تو بیچ میں سے کر کنارہ
کوئی رو رو کے کہتی تھی زمیں سےکہ تجھ کو بھی کدورت تھی ہمیں سےاگر تو چاک ہو جاتی یہیں سےنہ ہوسکتا ترے اوپر گذارا
حسین آکر نہ اس جا خیمہ کرتانہ اس کا دار و دستہ کٹ کے مرتانہ سر اس کا کوئی نیزے پہ دھرتانہ ہوتی خاک میداں خوں سے گارا
نہ پھرتا اس طرح ہم سے زمانہنہ ہوتے شام کو ہم یوں روانہنہ لگتا عابدیں کو تازیانہنہ ہوتی حشر دنیا میں دوبارہ
کوئی بے تاب تھی اور کوئی مضطرنہ تھی اک پردگی کے سر پہ معجرہوا روے سخن سوے پیمبرؐکہ زین العابدیں رو کر پکارا
گلے میں طوق کرتا ہے گرانیہوئی ہے سخت مشکل زندگانیکہوں کس سے غم و درد نہانینہیں اس درد کا مجھ پاس چارہ
رہے ہیں ہم جو پیچھے کشمکش ہےتنوں کو رنج ہے جانوں کو غش ہےموا قرباں ہو جو اس پر وہ خوش ہےنہ تھا جینے میں ایسے اس کا وارا
نہیں جلتا ہے ہم پر دل کسی کانہیں رکھتے ہیں پاس اب تجھ نبیؐ کارہا تھا رو کچھ اک ابن علی کاسو اپنے ساتھ سر کے لے سدھارا
وہ سید کشتۂ شمشیر نامردپڑا ہے خاک میں جس پر منوں گردعلی کا نورعین و نازپروردتمھاری آنکھوں کی پتلی کا تارا
نہیں فرصت کہ سونپوں خاک کے تیںتسلی دوں دل غمناک کے تیںمگر سونپوں خداے پاک کے تیںکہ وارث کون ہے اس بن ہمارا
گیا وہ قافلہ آخر سوے شامدلوں پر داغ و ناامید و ناکامولیکن عابد بیمار ہر گامجگر کرتا تھا مثل سنگ خارا
بھلی غم سے نہیں ہے گرم جوشیکروں میرؔ اختیار اب میں خموشیکہوں کیا شامیوں کی چشم پوشیدعا گفتند آں مردم حیا را
۵۷۹ / ۵۸۲