کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر

ہفت بند در مدح حضرت علیؓ

بند اول

۱

السلام اے رازدار داور جاں آفریںالسلام اے لامکاں کے حاکم مسندنشیں

۲

ذات تیری جوں خدا کی ذات ہے والاصفاتبے شریک و بے عدیل و بے نظیر و بے قریں

۳

یہ شرافت یہ سیادت یہ تقدس یہ کمالیہ تنزہ یہ تعلی یہ تفوق ہے کہیں

۴

تو ولی ہے تو وصی ہے تو علی ہے تو وہ ہےجس سے بالاتر تصور کیجیے تو کچھ نہیں

۵

کیا تعقل کیا تحمل کیا تبختر کیا وقارطفل مکتب درس گہ کا تیرے عقل اولیں

۶

سید برحق شریف النفس فخر روزگارباعث عز سپہر و موجب وقر زمیں

۷

پیشواے پیشوایاں سجدہ گاہ مومناںزینت بطحا و یثرب رونق اسلام دیں

۸

مظہر صدہا عجائب مصدر لطف و کرمزیب منبر جانشین رحمۃ للعالمیں

۹

مقصد دل آشنایاں مدعاے عاشقاںآرزوے اہل عرفاں مطلب اہل یقیں

۱۰

وارث دیں داور عادل شفیع روز حشرحافظ عرش بریں و حامی شرع متیں

۱۱

مالک ملک ولایت حاکم عالم پسندبادشاہ صاحب استقلال امیرالمومنیں

۱۲

عہد تیرا عدل ہے سب ملک ہے تیرا سرورمجرم و اندوہ گیں ہوں ملتفت ہونا ضرور

بند دوم

۱۳

اے مرے سرمایۂ دنیا و عقبیٰ لطف کراے مرے مولا مرے صاحب ادھر بھی کر نظر

۱۴

لطف ترا مس سے میری کیمیاسازی کرےمکرمت یک گونہ کر یہ خاک ہوجاتی ہے زر

۱۵

رحم پر موقوف ہیں سب کام اس ناکام کےنے مجھے کچھ مکر آوے ہے نہ مجھ میں کچھ ہنر

۱۶

سر فرو لانے کو جی کب چاہتا ہے سب کے پاسہے دماغ بے دماغان محبت عرش پر

۱۷

وقت جب آتا ہے خاص اے خاص رب العالمیںمیل کلی دل کا ہوتا ہے تری جانب مگر

۱۸

تو نہ پہنچے داد کو تو ہائے کیا بیداد ہےگوش زد تیرے نہ ہو فریاد تو ہے بے اثر

۱۹

وقت خوش وہ تھا مسرت بخش کتنا خلق کادیکھنے کو بھی نہ آتی تھی میسر چشم تر

۲۰

شاہد عدل آنکھ میلی گر کرے تو خوب رواپنی پلکوں سے سئیں عشاق کے زخم جگر

۲۱

کیا بیاں اب کریے شرم آتی ہے عرض حال سےقدر تیری ایسی والا حاجت اپنی کس قدر

۲۲

اب تو وحشت ہے طبیعت میں بسان گردبادخاک بر سر زندگانی کب تلک کریے بسر

۲۳

آبیاری تیری یہ اور باغ سب سرسبز ہےایک شاخ آرزو اپنی نہیں لاتی ثمر

۲۴

بارے بے برگی گراں ہے اور میں ہوں ناتواںبے نسیم فیض تیرے اس چمن میں میں کہاں

بند سوم

۲۵

اے شہ خوبی نسب والاحسب عالی تبارجملہ تن عزت سراپا وقر و یکسر اعتبار

۲۶

اللہ اللہ زور بازو قدر و قدرت دیدنیریجھنے کی جاے حشمت سیر قابل اقتدار

۲۷

قدس کے باشندگاں کا ناز تیری ذات پرنوع انساں کا تمامی تیرے اوپر افتخار

۲۸

قلع خیبر مرگ اژدر کھینچنا خورشید کاہیں فسانے زور کے تیرے جہاں میں یادگار

۲۹

جھک گئے گردن کشوں کے سر جہاں میں نے کہالافتیٰ الا علی لاسیف الا ذوالفقار

۳۰

توکہے جاروب تھی میدان کیں کی تیری تیغجس کے نکلے نے خس و خاشاک نے گرد و غبار

۳۱

تونے چھیڑا ہے اگر مرکب کو اپنے کہہ کے ہاںتو ہوا ہے اس روش اس بادپیما کا گذار

۳۲

جوں کوئی بجلی چمک جاتی ہے گاہے پیش چشمپھر کھلے پر آنکھ کے رہ جاتے ہیں حیران کار

۳۳

گوشۂ محراب میں راتوں کے تیں رونے سے کامروز میداں سایۂ شمشیر میں ہنسنا شعار

۳۴

کیا چھپی ہے کچھ یہ شخصیت جو میں ظاہر کروںپر ترے اوصاف سے ہیں قریہ و شہر و دیار

۳۵

ہے گہربخشی سے تیری ابر نیساں یک طرفہے کف ہمت کے آگے تیرے دریا یک کنار

۳۶

مہرباں ہو یک نظر اس چشم نم کی اور دیکھدیکھ مت میری طرف اپنے کرم کی اور دیکھ

بند چہارم

۳۷

کیا گدا کیا شاہ دونوں تیرے در سے کامیابسجدہ گاہ خلق و عالم ہے تری عالی جناب

۳۸

کوئی بیگانہ تری تقلید کیوں کر کرسکےتھا تو ایسا جب پیمبرؐ کی ہوا خویشی کا باب

۳۹

حیف وہ بے تہ نہ رکھے جو کہ تیری دوستیاک ولا کے ضمن میں تیری ہزاروں ہیں ثواب

۴۰

عقل کا معقولہ تو ہے خلق کا مقبول توذات تیری فرد اعلیٰ بات تیری یک کتاب

۴۱

تجھ سے روے بحث کس کو غیر علام الغیوباس جگہ جبریل ساکت عقل اول لاجواب

۴۲

جب کوئی ساقی کہیں تجھ سا بہشتی رو ملےجن کو ہے کچھ ہوش وے تیرے بنیں مست و خراب

۴۳

عنبریں گیسو ترے وا ہوں تو کھل جاتا ہے جیمدعی کھاتے ہیں آپ ہی آپ یوں ہی پیچ و تاب

۴۴

تو توقع کی جگہ سب کی تجھی سے چشم داشتتو پناہ دہر و تو امیدگاہ شیخ و شاب

۴۵

لطف بے پایاں ہے تیرا سایہ گستر خلق کاایک تابش اپنے ذرے پر بھی کر اے آفتاب

۴۶

ہے جہاں تیری سخا واں بحر و بر کا کیا شمارجب برسنے تو لگے گنتی میں آوے کب سحاب

۴۷

شرح وسعت دامن دولت کی تیرے کیا کروںبخش دے ہے جوہر تر پھینک دے ہے لعل ناب

۴۸

تیری ہمت تیری جرأت تیری طاقت تیرا زورتو ہی ریجھے توہی بوجھے توہی دیکھے اپنی اور

بند پنجم

۴۹

اے بسان کعبہ تیرے طوف میں روحانیاںنام تیرا حاملان عرش کا ورد زباں

۵۰

جوش مارے فیض کا چشمہ ترا تو بحر ہےزمزم و تسنیم پھر ہیں ایک دو چقر کہاں

۵۱

آب شرم رشک سے تیرے ستارہ صبح کاخاک تیرے آستانے کی جبین راستاں

۵۲

کیا بلندی قدر کی اللہ کیا شان رفیعجس جگہ تو ہے نہیں ہرگز رہ وہم و گماں

۵۳

زور ایسا کاہے کو بالقوت انسان ہےبے مزہ ہو تو ملا دیوے زمیں و آسماں

۵۴

گرچہ عالم دیدہ حضرت خضر بھی ہیں آدمیپر نہیں ہے ان کو مطلق یاں کی صحبت کا دھیاں

۵۵

تجھ پہ ظل اللہ کا اطلاق شاہا راست ہےچتر ہے خورشید تیرا چرخ تیرا سائباں

۵۶

شیر ہونا تیرا کیا سمجھے بز اخفش ہے شیخقشعریرے میں سدا رہتا ہے یاں ببر ژیاں

۵۷

بس طلسمات جہاں کے سب عیاں ہیں تجھ پہ رازحاصل کون و مکاں تو واقف راز نہاں

۵۸

نور سے تو ماہ کامل قدر سے چرخ بریںحلم تیرا کوہ تیرا علم بحر بیکراں

۵۹

کیا تسلط کیا تحمل کیا تمول کیا شکوہتو جہاں ہو ایک واں گویا کہ ہیں دونوں جہاں

۶۰

یہ طرح پاتے ہیں تجھ میں سب رسول اللہؐ کیشبہ ہے نام خدا تو اب رسول اللہؐ کی

بند ششم

۶۱

اے چراغ جملہ نور خاندان مصطفےٰاے مرے والی مرے مقصود ہم نام خدا

۶۲

ہے تو تو مخلوق لیکن عقل میں آتا نہیںدیکھ کر اندیشہ تجھ کو عرش پر جاتا رہا

۶۳

تو جہاں ہے اس جگہ کیا آسماں کی قدر ہےقدر تیری ہے جہاں واں گفتگو کو قدر کیا

۶۴

گاہ احمدؐ گہ احد گاہے علی پایا تجھےہر زماں میں ہر مکاں میں شان تھی تیری جدا

۶۵

فرط عشق اپنے سے کیا حرف و سخن اے کام جاںتو ہماری آرزو ہے تو ہمارا مدعا

۶۶

مطلب اپنا مقصد اپنا حاصل اپنی زیست کاعشق تیرا دوستی تیری فقط تیری ولا

۶۷

تجھ سے ہم خواہان مطلب تجھ سے ہم جویاے کامتوہی یاں حاجت روا ہے تو ہی یاں مشکل کشا

۶۸

تجھ سا حاکم تجھ سا داور تجھ سا یاور چھوڑ کرکس سے کہیے کس کنے لے جایئے پھر التجا

۶۹

تو ہے وارث تو ہے مالک تو ہے صاحب تجھ سے چشماپنے ہاں جو ہے سو تو اے شافع روز جزا

۷۰

اعتقاد اپنا یہی یارب رہے ہنگام مرگہوں زبان و دل موافق جس گھڑی پہنچے قضا

۷۱

دم بہ دم ہونٹھوں کے اوپر یاعلی ہو یاعلیہے رضامندی تو اپنی اس میں آگے جو رضا

۷۲

ہم یہی فردوس سمجھے ہیں اسی کے تیں نجاترفتگان شوق سے بس اور کیا پوچھو ہو بات

بند ہفتم

۷۳

اے امام واجب التعظیم و باب احتراماے سزاے عزت و مسجود انبوہ انام

۷۴

تیری قدر و منزلت ختم رسلؐ سے پوچھیےتیری قدر و منزلت میں ہے کسی کو کیا کلام

۷۵

تجھ رخ پرنور سے نسبت نہیں ہے بدر کوشہرگرد ایسے بہت دیکھے ہیں پھرتے ناتمام

۷۶

دے جہاں عرض تجمل حشمت و شوکت تریقیصر و فغفور واں ہوں بندگی میں جوں غلام

۷۷

جب تری زورآوری کی معرکے میں دھوم ہوسام کو تب پوچھتا ہے کون رستم ہے کدام

۷۸

تجھ سوا جور فلک کا کس سے بدلہ چاہیےتو ملیک مقتدر ہے تو عزیز ذی انتقام

۷۹

دست بستہ اقتدا ہم سے کسو کی کب ہوئیتو ہی اپنا پیشوا ہے تو ہی اپنا پیش امام

۸۰

گرچہ کہتا ہے زبان ہند میں یہ منقبتلیک حسان عرب سے کم نہیں کچھ میرا نام

۸۱

اس ادا سے گفتگو اس حسن سے طرز سخناس فصاحت سے عبارت اس بلاغت سے کلام

۸۲

ہیں متاع نیک یاں اشعار مولاناحسنیمن مدحت سے ترے پڑھتا ہے عالم صبح و شام

۸۳

تو خریداری کرے ٹک بھی تو قیمت ہو دوچندیعنی ہووے جنس کاسد کا قبول خاص و عام

۸۴

سو خدا ناکردہ ہم چشمی نہیں کرتا فقیرآرزو ہوتی نہیں ہے غیبت ایمان میرؔ

۵۸۰ / ۵۸۲