بھائی بھتیجے خویش و پسر یاور اور یار

بھائی بھتیجے خویش و پسر یاور اور یارجاویں گے مارے آنکھوں کے آگے سب ایک بارناچار اپنے مرنے کا ہوگا امیدوارہے آج رات اور یہ مہمان روزگارفردا حسین می شود از دہر ناامیداے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید

About this couplet

This is couplet 1 of 23 in “⁨بھائی بھتیجے خویش و پسر یاور اور یار⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (⁨کلامِ میر⁩).

Read it in the poem

۱ / ۲۳