بھائی بھتیجے خویش و پسر یاور اور یار

یک دم کہ تیری ہستی میں ہوجائے گا غضبسادات مارے جائیں گے دریا پہ تشنہ لببرسوں فلک کے رونے کا پھر ہے یہی سببمت آ عدم سے عالم ہستی میں زینہارفردا حسین می شود از دہر ناامیداے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید

About this couplet

This is couplet 2 of 23 in “⁨بھائی بھتیجے خویش و پسر یاور اور یار⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (⁨کلامِ میر⁩).

Read it in the poem

۲ / ۲۳