بھائی بھتیجے خویش و پسر یاور اور یار

دن شب کو کس امید کے اوپر کرے بھلاجو جانتا ہو یہ کہ ستم ہوگا برملانکلے گی تیغ جور کٹے گا مرا گلااے واے دل میں اپنے لیے حسرتیں ہزارفردا حسین می شود از دہر ناامیداے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید

About this couplet

This is couplet 10 of 23 in “⁨بھائی بھتیجے خویش و پسر یاور اور یار⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (⁨کلامِ میر⁩).

Read it in the poem

۱۰ / ۲۳