بھائی بھتیجے خویش و پسر یاور اور یار

ایسا نہ ہو کہیں کہ نکل آوے آفتابجو وہ غیور مرنے میں اپنے کرے شتابدے بیٹھے سر کو معرکے میں کھا کے پیچ و تابتر خوں میں دونوں گیسو ہوں تن پر پڑے غبارفردا حسین می شود از دہر ناامیداے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید

About this couplet

This is couplet 11 of 23 in “⁨بھائی بھتیجے خویش و پسر یاور اور یار⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (⁨کلامِ میر⁩).

Read it in the poem

۱۱ / ۲۳