یاد ایام کہ خوبی سے خبر تجھ کو نہ تھی

یاد ایام کہ خوبی سے خبر تجھ کو نہ تھیسرمہ و آئینہ کی اور نظر تجھ کو نہ تھیفکر آراستگی شام و سحر تجھ کو نہ تھیزلف آشفتہ کی سدھ دو دو پہر تجھ کو نہ تھیشانہ تھا نابلد کوچۂ گیسو تیراآئینہ کاہے کو تھا حیرتی رو تیرا

About this couplet

This is couplet 1 of 20 in “⁨یاد ایام کہ خوبی سے خبر تجھ کو نہ تھی⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (⁨کلامِ میر⁩).

Read it in the poem

۱ / ۲۰