یاد ایام کہ خوبی سے خبر تجھ کو نہ تھی
آگہی حسن سے اپنے تجھے زنہار نہ تھیاپنی مستی سے تری آنکھ خبردار نہ تھیپاؤں بے ڈول نہ پڑتا تھا یہ رفتار نہ تھیہر دم اس طور کمر میں ترے تلوار نہ تھیخون یوں کاہے کو کوچے میں ترے ہوتے تھےدل زدے کب تری دیواروں تلے روتے تھے
About this couplet
This is couplet 2 of 20 in “یاد ایام کہ خوبی سے خبر تجھ کو نہ تھی” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (کلامِ میر).
Read it in the poem۲ / ۲۰