کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر
یاد ایام کہ خوبی سے خبر تجھ کو نہ تھی
یاد ایام کہ خوبی سے خبر تجھ کو نہ تھیسرمہ و آئینہ کی اور نظر تجھ کو نہ تھیفکر آراستگی شام و سحر تجھ کو نہ تھیزلف آشفتہ کی سدھ دو دو پہر تجھ کو نہ تھیشانہ تھا نابلد کوچۂ گیسو تیراآئینہ کاہے کو تھا حیرتی رو تیرا
آگہی حسن سے اپنے تجھے زنہار نہ تھیاپنی مستی سے تری آنکھ خبردار نہ تھیپاؤں بے ڈول نہ پڑتا تھا یہ رفتار نہ تھیہر دم اس طور کمر میں ترے تلوار نہ تھیخون یوں کاہے کو کوچے میں ترے ہوتے تھےدل زدے کب تری دیواروں تلے روتے تھے
خواہش دل کی ملا کرتی تھی ہر ساعت دادطبع میں تیرے تصرف تھا ہمیں حد سے زیادمطلقاً تجھ سے نہ مربوط تھے ارباب عنادکاہے کو رہتے تھے کوچے میں ترے شور و فسادطور پر اپنے ترے پاس ہم آجاتے تھےحسب خواہش تجھے ہر شام و سحر پاتے تھے
بند جامے کا جو وا ہوتا تو وا رہتا تھابے تکلف مرے گھر رات کو آ رہتا تھاتھوڑی رنجش میں گلے ہی سے لگا رہتا تھاٹک جدا رہتے تو دیر آنکھ ملا رہتا تھااس قدر قدر نہ تھی اپنی تری آنکھوں میںلعب بازی میں بھی رہتا تھا مری آنکھوں میں
آستینوں میں نہ تھے چاک نہ زہ دامن میںتکمے کاہے کے تئیں لگتے تھے پیراہن میںیہ طرح کب تھی دوپٹے کے تلے چتون میںپھرتے کس روز تھے یوں کپڑے پہن آنگن میںبند ہلتے ہوئے ہر دم نہ کھڑے رہتے تھےپیچ پگڑی کے گلے میں نہ پڑے رہتے تھے
کس دن اتنا تھا پراگندگی مو کا خیالدو دو دن چہرے پہ بکھرے ہی رہا کرتے باللعل جاں بخش نہ رہتے تھے کبھو اتنے لالخوبی خندہ نہ لوگوں کے جیوں کی تھی وبالپان سے شوق نہ تھا کیسا مسی کا مذکورغصے ہوجاتے تھے سن ایسے کسی کا مذکور
تنگ پوشی سے نہ محظوظ تمھیں پاتے تھےتنگ جامے جو سیے جاتے تو گھبراتے تھےمسکی چولی سے نہ تم در پہ کبھو آتے تھےلپٹے دامن سے الٹ گھر ہی میں پھر جاتے تھےیا تو اب کہنی پھٹی مونڈھے چسے رہتے ہیںباہر اندر ہو کہیں بند کسے رہتے ہیں
شوق زینت سے نہ تھا ربط نہ رعنائی سےدل نہ اتنا تھا لگا خوبی مرزائی سےاب تو سو بار کمر بندھتی ہے اکلائی سےدیکھتے رہتے ہو ترکیب سے خود رائی سےروسیہ آئینہ سے تم کو فراغت ہی نہیںسرمۂ تیرہ دروں سے کہیں فرصت ہی نہیں
شانہ اب ہاتھ میں ہے زلف بنا کرتی ہےمسی دانتوں میں کئی بار لگا کرتی ہےپاس سرمے کے سلائی بھی رہا کرتی ہےآنکھ رعنائی پہ اپنی ہی پڑا کرتی ہےجان آنکھوں میں کسی کی ہو نظر تم کو نہیںغش کرے کوئی ستم دیدہ خبر تم کو نہیں
کب گلی کوچوں میں پھرتے تھے لیے تم تلوارپرتلا کاہے کو رہتا تھا گلے کا یوں ہارساتھ خونخوار نہ پھرتے تھے نہ تم تھے خونخواردم میں ناحق کبھو یوں جان نہ رکھتے تھے مارمایۂ فتنہ و پرخاش ہوئے ہو اب توشوخ و شلتاقی و اوباش ہوئے ہو اب تو
پیشتر ہم سے کوئی تیرا طلبگار نہ تھاایک بھی نرگس بیمار کا بیمار نہ تھاجنس اچھی تھی تری لیک خریدار نہ تھاہم سوا کوئی ترا رونق بازار نہ تھاکتنے سودائی جو تھے دل نہ لگا سکتے تھےآنکھیں یوں موند کے وے جی نہ چلا سکتے تھے
یا تو ہم ہی تھے کہ اب ہم سے نہیں کچھ یاریمفت برباد گئی عزت و حرمت ساریبار خاطر رہے اب ہم کو بھی ہے بیزارییعنی اس شہر سے اٹھ جانے کی ہے تیاریرتبۂ غیر نہیں آنکھوں سے دیکھا جاتاطاقت اب یہ دل بے تاب نہیں ٹک لاتا
کوئی نادیدہ محب سادہ لگا لیں گے ہمسادہ نامرتکب بادہ لگا لیں گے ہمبوس و آغوش کا آمادہ لگا لیں گے ہمبند خودرائی سے آزادہ لگا لیں گے ہماس کو آغوش تمنا میں اب اپنی لیں گےاس سے داد دل ناکام سب اپنی لیں گے
اس کی کھینچیں گے علی الرغم ترے مرزائیاس کو سکھلائیں گے طرز و روش رعنائیمجلسوں میں اسے لاویں گے بصد زیبائیصحبت اے دشمن جاں اس سے اگر بر آئیتو تجھے دیکھیو کس طور کڑھاتے ہیں ہمچھیڑیں کیا رکھتے ہیں کس ڈھب سے ستاتے ہیں ہم
چہرے کو اس کے کر آراستہ دلخواہ کریںآرسی اس کو دکھا حسن سے آگاہ کریںراہ خوبی کی بتاکر اسے گمراہ کریںتو سہی ضد سے ترے ایسا ہی شتاہ کریںکہ تجھے سدھ نہ رہے خوبی و رعنائی کیدھجیاں لے تری اس جامۂ زیبائی کی
دست افشاں ہو تو عزت تری سب ہاتھ سے جائےچشم مکحول کو دکھلائے تو تو آنکھ چھپائےمار ٹھوکر چلے دامن کو تو تو سر نہ ہلائےجس طرف اس کا گذر ہووے تو اودھر کو نہ جائےچھیڑے گالی دے اشارت کرے چشمک مارےعشوہ و غمزہ و انداز بھلادے سارے
زندگانی ہو تجھے ہاتھ سے اس کے دشوارکوئی دن تو بھی پھرے جان سے اپنی بیزارپہنچیں ہر آن میں اس سے تجھے سو سو آزارطنز و تعریض و کنایہ کی رہے اک بوچھارجاکے ٹک سامنے اس کے تو بہت تر آوےعرق شرم میں ڈوبا ہوا سب گھر آوے
دل واسوختہ کو اپنے لیے جاتے ہیںغصے سے خون جگر اپنا پیے جاتے ہیںاپنی جا غیروں کو ناچار دیے جاتے ہیںاب کے یوں جاتے نہیں عہد کیے جاتے ہیںآوے گا تو بھی منانے تو نہ آویں گے ہمجان سے جاویں گے پیماں سے نہ جاویں گے ہم
بازگشت اب کی کسو طرح نہیں ہے منظورگوکہ درپیش ہمیں آوے رہ دور از دورجانا ٹھانا تو پھر آنے کا ہے یھاں کیا مذکورجی سے اپنے بھی گذر جایئے پر تا مقدورمنھ ادھر کریے نہ جس جا سے بنے اٹھ جاناقدر کھو دیوے ہے ہر بار کا جانا آنا
میرؔ اعراض بھی لوگوں نے کیا ہے آگےدل کے واسوز سے لوہو بھی پیا ہے آگےخلق عالم سے کنارہ بھی کیا ہے آگےعزت و وقر بھی برباد دیا ہے آگےپر کنھوں نے نہیں اس ڈھب سے زباں بازی کییہ بھی ظالم ہے کوئی طرز سخن سازی کی
۵۸۲ / ۵۸۲