یاد ایام کہ خوبی سے خبر تجھ کو نہ تھی
کب گلی کوچوں میں پھرتے تھے لیے تم تلوارپرتلا کاہے کو رہتا تھا گلے کا یوں ہارساتھ خونخوار نہ پھرتے تھے نہ تم تھے خونخواردم میں ناحق کبھو یوں جان نہ رکھتے تھے مارمایۂ فتنہ و پرخاش ہوئے ہو اب توشوخ و شلتاقی و اوباش ہوئے ہو اب تو
About this couplet
This is couplet 10 of 20 in “یاد ایام کہ خوبی سے خبر تجھ کو نہ تھی” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (کلامِ میر).
Read it in the poem۱۰ / ۲۰