یاد ایام کہ خوبی سے خبر تجھ کو نہ تھی

شانہ اب ہاتھ میں ہے زلف بنا کرتی ہےمسی دانتوں میں کئی بار لگا کرتی ہےپاس سرمے کے سلائی بھی رہا کرتی ہےآنکھ رعنائی پہ اپنی ہی پڑا کرتی ہےجان آنکھوں میں کسی کی ہو نظر تم کو نہیںغش کرے کوئی ستم دیدہ خبر تم کو نہیں

About this couplet

This is couplet 9 of 20 in “⁨یاد ایام کہ خوبی سے خبر تجھ کو نہ تھی⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (⁨کلامِ میر⁩).

Read it in the poem

۹ / ۲۰