یاد ایام کہ خوبی سے خبر تجھ کو نہ تھی

یا تو ہم ہی تھے کہ اب ہم سے نہیں کچھ یاریمفت برباد گئی عزت و حرمت ساریبار خاطر رہے اب ہم کو بھی ہے بیزارییعنی اس شہر سے اٹھ جانے کی ہے تیاریرتبۂ غیر نہیں آنکھوں سے دیکھا جاتاطاقت اب یہ دل بے تاب نہیں ٹک لاتا

About this couplet

This is couplet 12 of 20 in “⁨یاد ایام کہ خوبی سے خبر تجھ کو نہ تھی⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (⁨کلامِ میر⁩).

Read it in the poem

۱۲ / ۲۰