یاد ایام کہ خوبی سے خبر تجھ کو نہ تھی
کوئی نادیدہ محب سادہ لگا لیں گے ہمسادہ نامرتکب بادہ لگا لیں گے ہمبوس و آغوش کا آمادہ لگا لیں گے ہمبند خودرائی سے آزادہ لگا لیں گے ہماس کو آغوش تمنا میں اب اپنی لیں گےاس سے داد دل ناکام سب اپنی لیں گے
About this couplet
This is couplet 13 of 20 in “یاد ایام کہ خوبی سے خبر تجھ کو نہ تھی” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (کلامِ میر).
Read it in the poem۱۳ / ۲۰