یاد ایام کہ خوبی سے خبر تجھ کو نہ تھی

چہرے کو اس کے کر آراستہ دلخواہ کریںآرسی اس کو دکھا حسن سے آگاہ کریںراہ خوبی کی بتاکر اسے گمراہ کریںتو سہی ضد سے ترے ایسا ہی شتاہ کریںکہ تجھے سدھ نہ رہے خوبی و رعنائی کیدھجیاں لے تری اس جامۂ زیبائی کی

About this couplet

This is couplet 15 of 20 in “⁨یاد ایام کہ خوبی سے خبر تجھ کو نہ تھی⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (⁨کلامِ میر⁩).

Read it in the poem

۱۵ / ۲۰