یاد ایام کہ خوبی سے خبر تجھ کو نہ تھی

اس کی کھینچیں گے علی الرغم ترے مرزائیاس کو سکھلائیں گے طرز و روش رعنائیمجلسوں میں اسے لاویں گے بصد زیبائیصحبت اے دشمن جاں اس سے اگر بر آئیتو تجھے دیکھیو کس طور کڑھاتے ہیں ہمچھیڑیں کیا رکھتے ہیں کس ڈھب سے ستاتے ہیں ہم

About this couplet

This is couplet 14 of 20 in “⁨یاد ایام کہ خوبی سے خبر تجھ کو نہ تھی⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (⁨کلامِ میر⁩).

Read it in the poem

۱۴ / ۲۰