یاد ایام کہ خوبی سے خبر تجھ کو نہ تھی

زندگانی ہو تجھے ہاتھ سے اس کے دشوارکوئی دن تو بھی پھرے جان سے اپنی بیزارپہنچیں ہر آن میں اس سے تجھے سو سو آزارطنز و تعریض و کنایہ کی رہے اک بوچھارجاکے ٹک سامنے اس کے تو بہت تر آوےعرق شرم میں ڈوبا ہوا سب گھر آوے

About this couplet

This is couplet 17 of 20 in “⁨یاد ایام کہ خوبی سے خبر تجھ کو نہ تھی⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (⁨کلامِ میر⁩).

Read it in the poem

۱۷ / ۲۰