یاد ایام کہ خوبی سے خبر تجھ کو نہ تھی
دل واسوختہ کو اپنے لیے جاتے ہیںغصے سے خون جگر اپنا پیے جاتے ہیںاپنی جا غیروں کو ناچار دیے جاتے ہیںاب کے یوں جاتے نہیں عہد کیے جاتے ہیںآوے گا تو بھی منانے تو نہ آویں گے ہمجان سے جاویں گے پیماں سے نہ جاویں گے ہم
About this couplet
This is couplet 18 of 20 in “یاد ایام کہ خوبی سے خبر تجھ کو نہ تھی” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (کلامِ میر).
Read it in the poem۱۸ / ۲۰