یاد ایام کہ خوبی سے خبر تجھ کو نہ تھی
بازگشت اب کی کسو طرح نہیں ہے منظورگوکہ درپیش ہمیں آوے رہ دور از دورجانا ٹھانا تو پھر آنے کا ہے یھاں کیا مذکورجی سے اپنے بھی گذر جایئے پر تا مقدورمنھ ادھر کریے نہ جس جا سے بنے اٹھ جاناقدر کھو دیوے ہے ہر بار کا جانا آنا
About this couplet
This is couplet 19 of 20 in “یاد ایام کہ خوبی سے خبر تجھ کو نہ تھی” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (کلامِ میر).
Read it in the poem۱۹ / ۲۰