یاد ایام کہ خوبی سے خبر تجھ کو نہ تھی
بند جامے کا جو وا ہوتا تو وا رہتا تھابے تکلف مرے گھر رات کو آ رہتا تھاتھوڑی رنجش میں گلے ہی سے لگا رہتا تھاٹک جدا رہتے تو دیر آنکھ ملا رہتا تھااس قدر قدر نہ تھی اپنی تری آنکھوں میںلعب بازی میں بھی رہتا تھا مری آنکھوں میں
About this couplet
This is couplet 4 of 20 in “یاد ایام کہ خوبی سے خبر تجھ کو نہ تھی” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (کلامِ میر).
Read it in the poem۴ / ۲۰