یاد ایام کہ خوبی سے خبر تجھ کو نہ تھی

خواہش دل کی ملا کرتی تھی ہر ساعت دادطبع میں تیرے تصرف تھا ہمیں حد سے زیادمطلقاً تجھ سے نہ مربوط تھے ارباب عنادکاہے کو رہتے تھے کوچے میں ترے شور و فسادطور پر اپنے ترے پاس ہم آجاتے تھےحسب خواہش تجھے ہر شام و سحر پاتے تھے

About this couplet

This is couplet 3 of 20 in “⁨یاد ایام کہ خوبی سے خبر تجھ کو نہ تھی⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (⁨کلامِ میر⁩).

Read it in the poem

۳ / ۲۰