یاد ایام کہ خوبی سے خبر تجھ کو نہ تھی

کس دن اتنا تھا پراگندگی مو کا خیالدو دو دن چہرے پہ بکھرے ہی رہا کرتے باللعل جاں بخش نہ رہتے تھے کبھو اتنے لالخوبی خندہ نہ لوگوں کے جیوں کی تھی وبالپان سے شوق نہ تھا کیسا مسی کا مذکورغصے ہوجاتے تھے سن ایسے کسی کا مذکور

About this couplet

This is couplet 6 of 20 in “⁨یاد ایام کہ خوبی سے خبر تجھ کو نہ تھی⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (⁨کلامِ میر⁩).

Read it in the poem

۶ / ۲۰