یاد ایام کہ خوبی سے خبر تجھ کو نہ تھی

تنگ پوشی سے نہ محظوظ تمھیں پاتے تھےتنگ جامے جو سیے جاتے تو گھبراتے تھےمسکی چولی سے نہ تم در پہ کبھو آتے تھےلپٹے دامن سے الٹ گھر ہی میں پھر جاتے تھےیا تو اب کہنی پھٹی مونڈھے چسے رہتے ہیںباہر اندر ہو کہیں بند کسے رہتے ہیں

About this couplet

This is couplet 7 of 20 in “⁨یاد ایام کہ خوبی سے خبر تجھ کو نہ تھی⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (⁨کلامِ میر⁩).

Read it in the poem

۷ / ۲۰