ایک دن وے تھے کہ تم کو نہ فریب آتے تھے
کن دنوں ساتھ کئی یار رکھا کرتے تھےکن شبوں غیر سے یہ پیار رکھا کرتے تھےکس گھڑی ہاتھ میں تلوار رکھا کرتے تھےکس کو یوں میری طرح مار رکھا کرتے تھےمیان سے اب تو لیے آٹھ پہر رہتے ہوگھر سے جب نکلو ہو تب خون ہی کر رہتے ہو
About this couplet
This is couplet 11 of 15 in “ایک دن وے تھے کہ تم کو نہ فریب آتے تھے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (کلامِ میر).
Read it in the poem۱۱ / ۱۵