کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر

ایک دن وے تھے کہ تم کو نہ فریب آتے تھے

۱

ایک دن وے تھے کہ تم کو نہ فریب آتے تھےاونی سونی بھی مرے آگے اٹھا جاتے تھےمدعی کاہے کو مجلس میں جگہ پاتے تھےچھوتے تھے پاؤں تو پھر سر میں وہیں کھاتے تھےیا تو اب شام و سحر پاس لگے رہتے ہیںکرکے سرگوشی جو کچھ چاہتے ہیں کہتے ہیں

۲

تم کو بھی آٹھ پہر حرف و حکایت ان سےبازو جانو ہو انھیں چشم حمایت ان سےشکر ان کا ہے جو ہے بھی تو شکایت ان سےہو طرح کوئی چلی جا ہے رعایت ان سےہاتھ کاندھے پہ کبھو رکھ کے کھڑے ہوتے ہوکبھی منت کرو ہو ٹک جو لڑے ہوتے ہو

۳

پاس ان کا ہے تمھیں خاطر انھیں کی منظوران سے ملنے میں نہیں کرتے کسی طور قصوران سے اک دن میں کئی بار ملاقات ضروران سے لگ بیٹھتے ہو بھاگتے ہو ہم سے دورجن کا شیوہ ہے حرم زدگی انھیں سے صحبتبندگی کیشوں سے پرخاش خدا کی قدرت

۴

وے جو آزردہ ہوں ٹک بھی تو منانے جاؤمکث کر بیٹھ رہیں گھر تو بلانے جاؤالغرض کرکے ادھر سو سو بہانے جاؤان کو دریا پہ جو سن پاؤ نہانے جاؤہم اگر خاک ملیں منھ پہ نہ بولو چالوہم اگر لوہو لگیں رونے تو ہنس کر ٹالو

۵

ان سے آزار دہی کی مری کنگائش ہےہر دم ان سے مری خوں ریزی کی فرمائش ہےان کی دلجوئی ہے یا چہرے کی آرائش ہےفارغ ان دونوں سے ہوتے ہو تو آسائش ہےدو دو دن مست مئے ناب پڑے سوتے ہورہتے ہو بے مزہ بیدار اگر ہوتے ہو

۶

خوبی رعنائی سے کم تجھ کو بہت فرصت ہےاپنی ترکیب بنانے سے کہاں مہلت ہےچہرہ آرائی شب و روز ہے یہ صورت ہےشانہ و زلف گتھے رہتے ہیں یہ صحبت ہےسرمے سے آنکھ اٹھاوے تو مرا رو دیکھےآرسی چھوڑے تجھے ٹک تو ادھر تو دیکھے

۷

محو کس روز تجھے پاتے تھے رعنائی کاذوق رہتا تھا تجھے کاہے کو خودرائی کاکب کب آنچل رہے تھا ہاتھ میں اکلائی کااتنا دل بستہ نہ تھا جامۂ زیبائی کاسرخ سنجاف نہ لگتی تھی نہ ہوتے تھے چاکخون سے عشق کے ماروں کے یہ دامن تھا پاک

۸

ایسے اوباشوں کی تقلید میں کب تھی تگ و دوتنگ چولی کے نہ رہتا تھا کبھی اتنا گروپاٹ دامن کے نہ ہوتے تھے ترے ساٹھ کے سواب تو ہے قہر جو ڈھیلی ہو کمر ایک بھی جودرزی کانپا ہی کرے ٹھیک نہ جب تک سی لےکاڑھے ناکے میں سوئی کے کرے ٹانکے ڈھیلے

۹

خط بھی آیا پہ مری تیری صفائی نہ ہوئیکس گھڑی آن کے بیٹھے کہ لڑائی نہ ہوئیاپنی سج دیکھنے سے تجھ کو رہائی نہ ہوئیاک بلا جی کی ہوئی تنگ قبائی نہ ہوئیرک گئے دیکھتے دس جا سے ترے مونڈھے چسےچولی مسکی ہوئی سب مہریوں میں پہنچے پھنسے

۱۰

بند لمبے نہ کبھو اتنے سیے جاتے تھےشانے پر ڈالے ہوئے لچھے سے کب آتے تھےزہ سراسر نہ گریبان میں لگواتے تھےگھیر دامن کا بہت ہوتا تو گھبراتے تھےاب تو پوشاک ہے کچھ تازہ نکالی تم نےطرحداری کی طرح اور ہی ڈالی تم نے

۱۱

کن دنوں ساتھ کئی یار رکھا کرتے تھےکن شبوں غیر سے یہ پیار رکھا کرتے تھےکس گھڑی ہاتھ میں تلوار رکھا کرتے تھےکس کو یوں میری طرح مار رکھا کرتے تھےمیان سے اب تو لیے آٹھ پہر رہتے ہوگھر سے جب نکلو ہو تب خون ہی کر رہتے ہو

۱۲

بال واں سنوریں ترے یاں مجھے جی ہی جنجالمیں ملوں خاک میں منظور تجھے اپنی چالہو جگر داغ مرا منھ پہ بنے تیرے خالمہندی پاؤں سے لگے گھل کے رہوں میں پامالسرمہ آنکھوں میں جگہ تیری کرے شام و سحرمطلق احوال مرا تجھ کو نہ ہو مدنظر

۱۳

تھیں فریب اگلی نگاہیں وے تمھاری بارےدامن و جیب پھٹے یاد میں ان کی سارےشوق کے ہاتھ شب و روز سروں پر مارےچھاتیاں کوٹتے ہی کوٹتے آخر ہارےروئے اتنا کہ جگر میں نہ رہی لوہو کی بونداب سماں وہ ہے کہ دیکھوگے لیاں آنکھیں موند

۱۴

تنگ اب حد سے زیادہ ہوئے ہیں یاد رہےبس بہت اب ترے اطوار سے ناشاد رہےکب تک اس طور کوئی اے ستم ایجاد رہےدن کو بیداد رہے رات کو فریاد رہےہے قریب اب کہ ترے کوچے سے اٹھ کر جاویںبے حمیت ہی ہمیں کہیو اگر پھر آویں

۱۵

اک طرف مر رہیں گے جاکے بھلا کیا کریےہر زماں ہر کسو سے حال کہا کیا کریےسر گریبان میں یوں ڈالے رہا کیا کریےمیرؔ کے طور ترا شکوہ لکھا کیا کریےجی نہ نکلا اگر اس میں تو کڑھا کریے گامرثیہ اپنا کہیں بیٹھے کہا کریے

۴۸۲ / ۵۸۲