ایک دن وے تھے کہ تم کو نہ فریب آتے تھے
بال واں سنوریں ترے یاں مجھے جی ہی جنجالمیں ملوں خاک میں منظور تجھے اپنی چالہو جگر داغ مرا منھ پہ بنے تیرے خالمہندی پاؤں سے لگے گھل کے رہوں میں پامالسرمہ آنکھوں میں جگہ تیری کرے شام و سحرمطلق احوال مرا تجھ کو نہ ہو مدنظر
About this couplet
This is couplet 12 of 15 in “ایک دن وے تھے کہ تم کو نہ فریب آتے تھے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (کلامِ میر).
Read it in the poem۱۲ / ۱۵