ایک دن وے تھے کہ تم کو نہ فریب آتے تھے
اک طرف مر رہیں گے جاکے بھلا کیا کریےہر زماں ہر کسو سے حال کہا کیا کریےسر گریبان میں یوں ڈالے رہا کیا کریےمیرؔ کے طور ترا شکوہ لکھا کیا کریےجی نہ نکلا اگر اس میں تو کڑھا کریے گامرثیہ اپنا کہیں بیٹھے کہا کریے
About this couplet
This is couplet 15 of 15 in “ایک دن وے تھے کہ تم کو نہ فریب آتے تھے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (کلامِ میر).
Read it in the poem۱۵ / ۱۵