ایک دن وے تھے کہ تم کو نہ فریب آتے تھے

تنگ اب حد سے زیادہ ہوئے ہیں یاد رہےبس بہت اب ترے اطوار سے ناشاد رہےکب تک اس طور کوئی اے ستم ایجاد رہےدن کو بیداد رہے رات کو فریاد رہےہے قریب اب کہ ترے کوچے سے اٹھ کر جاویںبے حمیت ہی ہمیں کہیو اگر پھر آویں

About this couplet

This is couplet 14 of 15 in “⁨ایک دن وے تھے کہ تم کو نہ فریب آتے تھے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (⁨کلامِ میر⁩).

Read it in the poem

۱۴ / ۱۵