ایک دن وے تھے کہ تم کو نہ فریب آتے تھے
وے جو آزردہ ہوں ٹک بھی تو منانے جاؤمکث کر بیٹھ رہیں گھر تو بلانے جاؤالغرض کرکے ادھر سو سو بہانے جاؤان کو دریا پہ جو سن پاؤ نہانے جاؤہم اگر خاک ملیں منھ پہ نہ بولو چالوہم اگر لوہو لگیں رونے تو ہنس کر ٹالو
About this couplet
This is couplet 4 of 15 in “ایک دن وے تھے کہ تم کو نہ فریب آتے تھے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (کلامِ میر).
Read it in the poem۴ / ۱۵