ایک دن وے تھے کہ تم کو نہ فریب آتے تھے
ان سے آزار دہی کی مری کنگائش ہےہر دم ان سے مری خوں ریزی کی فرمائش ہےان کی دلجوئی ہے یا چہرے کی آرائش ہےفارغ ان دونوں سے ہوتے ہو تو آسائش ہےدو دو دن مست مئے ناب پڑے سوتے ہورہتے ہو بے مزہ بیدار اگر ہوتے ہو
About this couplet
This is couplet 5 of 15 in “ایک دن وے تھے کہ تم کو نہ فریب آتے تھے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (کلامِ میر).
Read it in the poem۵ / ۱۵