ایک دن وے تھے کہ تم کو نہ فریب آتے تھے
ایسے اوباشوں کی تقلید میں کب تھی تگ و دوتنگ چولی کے نہ رہتا تھا کبھی اتنا گروپاٹ دامن کے نہ ہوتے تھے ترے ساٹھ کے سواب تو ہے قہر جو ڈھیلی ہو کمر ایک بھی جودرزی کانپا ہی کرے ٹھیک نہ جب تک سی لےکاڑھے ناکے میں سوئی کے کرے ٹانکے ڈھیلے
About this couplet
This is couplet 8 of 15 in “ایک دن وے تھے کہ تم کو نہ فریب آتے تھے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (کلامِ میر).
Read it in the poem۸ / ۱۵