ایک دن وے تھے کہ تم کو نہ فریب آتے تھے

محو کس روز تجھے پاتے تھے رعنائی کاذوق رہتا تھا تجھے کاہے کو خودرائی کاکب کب آنچل رہے تھا ہاتھ میں اکلائی کااتنا دل بستہ نہ تھا جامۂ زیبائی کاسرخ سنجاف نہ لگتی تھی نہ ہوتے تھے چاکخون سے عشق کے ماروں کے یہ دامن تھا پاک

About this couplet

This is couplet 7 of 15 in “⁨ایک دن وے تھے کہ تم کو نہ فریب آتے تھے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (⁨کلامِ میر⁩).

Read it in the poem

۷ / ۱۵