کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر
اے ابر تر تو اور کسی سمت کو برس
۱
اے ابر تر تو اور کسی سمت کو برساس ملک میں ہماری ہے یہ چشم تر ہی بس
۲
حرماں تو دیکھ پھول بکھیرے تھی کل صبااک برگ گل گرا نہ جہاں تھا مرا قفس
۳
مژگاں بھی بہہ گئیں مرے رونے سے چشم کیسیلاب موج مارے تو ٹھہرے ہے کوئی خس
۴
مجنوں کا دل ہوں محمل لیلیٰ سے ہوں جداتنہا پھروں ہوں دشت میں جوں نالۂ جرس
۵
اے گریہ اس کے دل میں اثر خوب ہی کیاروتا ہوں جب میں سامنے اس کے تودے ہے ہنس
۶
اس کی زباں کے عہدے سے کیوں کر نکل سکوںکہتا ہوں ایک میں تو سناتا ہے مجھ کو دس
۷
حیراں ہوں میرؔ نزع میں اب کیا کروں بھلااحوال دل بہت ہے مجھے فرصت اک نفس
۴۸۳ / ۵۸۲