کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر

تمامی حجت کی خاطر امام

۱

تمامی حجت کی خاطر اماملگا کہنے رو کر سوے اہل شامکہ اے قوم یہ طفل اصغر بناممرے ہے مری گود میں تشنہ کام

۲

نہ کوئی مرا یار و یاور رہانہ قاسم رہا ہے نہ اکبر رہاجسے دیکھتا ہوں سو وہ مر رہامرے اقربا تم نے مارے تمام

۳

یہ پیمان کرتا ہوں میں تم سے ابکہ ناموس اپنے اٹھاؤں گا سبکسو اور جاؤں گا چھوڑا عربحبش ہند اپنا کروں گا مقام

۴

نہ دعویٰ کروں گا قیامت کو بھیکیا پیشکش میں امامت کو بھیگوارا کیا سب ملامت کو بھینہ یاں کی مصیبت کا واں لوں گا نام

۵

کس و کو کو اپنے لیے جاؤں گانبیؐ کا نواسا نہ کہلاؤں گاجو قسمت میں ہوگا سو واں کھاؤں گابدل ڈالوں گا اپنا حیدر کا نام

۶

مسافرعرب نام رکھوں گا میںکسو سے نہ کچھ کام رکھوں گا میںقدم آگے ہر گام رکھوں گا میںکہیں کر رہوں گا سحر اپنی شام

۷

ادھر سے ادھر ہی کروں گا سفرنہ جانے گا کوئی چلا ہے کدھرکروں گا وطن کی نہ جانب نظرکیا میں مدینے کو یاں سے سلام

۸

رفیق اور یاور ہوئے سب تلفہوا تیغ کا میرا کنبہ علفنہ سجاد بن کوئی اب ہے خلفسو اس خستہ کو تپ رہے ہے مدام

۹

امام اپنا گو مجھ کو مت جانو تمعلی کے نہ رتبے کو پہچانو تمخدا کو تو اے قوم ٹک مانو تمکہ بندے کے ہاتھ آوے پانی کا جام

۱۰

گئے خویش و فرزند سب دردناکہوئے میرے بھائی جگر سینہ چاکرہا میں سو ہوں مستعد ہلاکگیا خاک میں مل مرا احتشام

۱۱

گرے کٹ کے یک لخت لخت جگرگئے مارے یعنی عزیز و پسرلڑائی تلک جمع تھے وے گہرلڑی ٹوٹی اب وہ گیا انتظام

۱۲

ستم جو کیا تم نے ہم نے سہامرے اقربا میں نہ کوئی رہاکمینوں نے کیا کیا نہ منھ پر کہارہا کچھ نہ جب پھر کیا احترام

۱۳

خرابے سے بدتر ہوا میرا باغگئے پھول گل مجھ کو دکھلا کے داغکیا خوش نوا طائروں نے فراغنپٹ شور زاغاں سے ہے دھوم دھام

۱۴

مروت کرو ٹک دم آب دوکہ تسکین دل ہووے اس طفل کومرا کینہ اس بے خبر سے نہ لونہ اس سے رکھو کچھ غم انتقام

۱۵

سنی سب نے یہ خونچکاں گفتگوسروں کو کیا شرم سے ٹک فرومگر اک سیہ کار ہو روبرولگا کہنے کیا ہے یہ طول کلام

۱۶

کہاں بات کرنے کی فرصت ہے یاںدم آب موقوف بیعت ہے یاںہے مہلت جو کچھ ہے غنیمت ہے یاںہمیں قتل و غارت کا ہے اہتمام

۱۷

نہ باتیں کر اتنی لڑائی ہے ابیزید اور عمر کی دہائی ہے اببہم سب نے سوگند کھائی ہے ابکہ دیں آب تو ہم پہ کھانا حرام

۱۸

اگر آب ہو جائے سارا جہاںنہ معلوم ہو کچھ زمیں کا نشاںتجھے بوند پانی نہ دیں اے جواںمگر تو اطاعت کرے لاکلام

۱۹

یہ سن رکھ کہ ہم لوگ ہیں لشکرینہ جانیں ہیں دیں کو نہ پیغمبریہمیں کوئی کچھ دے کرے سروریاشارت کرے تو کریں قتل عام

۲۰

بس اب گفتگو وقت فرصت نہیںلڑائی ہے یاں کوئی صحبت نہیںبہت آب پر تیری قسمت نہیںیہی منھ پہ کہنا یہی ہے پیام

۲۱

روایت ہے واں اک فرنگی بھی تھاہوا گوش زد اس کے یہ ماجراسبھوں سے مخاطب ہو ان نے کہایہ ہے کون اے مردم زشت فام

۲۲

کہا ایک نے برگزیدہ ہے یہمحمدؐ کا نور دودیدہ ہے یہہوا کیا جو آفت رسیدہ ہے یہعلی کا ہے فرزند خود ہے امام

۲۳

وہ بولا کہ اے قوم جاہل ہو تمشریر و سیہ کار و باطل ہو تمسب اس شخص کے خوں کے مائل ہو تمکہو جس کو فرزند خیر انام

۲۴

نبی زادہ ہے تشنگی سے نڈھالتمھیں اس کے جی مارنے کا خیالعتاب اس پہ کرتا ہے ہر بدخصالخطاب اس سے کرتا ہے اب ہرکدام

۲۵

زہے دین و آئین و خلق و ادبعجب اے محمدپرستاں عجبسب اس کے پئے خون ہو بے سببسبب جس کے دیں کا تمھارے قیام

۲۶

اہانت ہو عیسیٰ کے خر کی جہاںکریں لوہو نصرانی اپنا رواںرہے تیغ خوں خوار ہی درمیاںنہ ہو واں کا جس دم تلک انہدام

۲۷

کیا ہے عمل تم نے وہ اختیارنہ جس کو کریں کافران تتاررہے گا ستم یہ بہت یادگارہوئے ہو سزاوار طعن دوام

۲۸

عبث دیں کو برباد تم نے کیامحمدؐ کے منھ سے نہ کی کچھ حیاکسو سے بھی دنیا کرے ہے وفاطمع تم سیہ باطنوں کی ہے خام

۲۹

ہوا واقعہ پھر سو جانیں ہیں سبستم گذرا ایسا کہاں اور کبقیامت غضب قہر رنج و تعبہوا بیکسانہ تمام اس کا کام

۳۰

اٹھایا جبیں پر جو زخم سناںہوا خاک پر خون ازبس رواںجھکا پشت زیں سے امام زماںگئی چھوٹ مرکب کی کف سے لگام

۳۱

غش آیا لہو جو بہت سا گیاجھکا یعنی سجدے کا مائل ہواسر و تن ہوئے اتفاقاً جدانہ چالیس دن تک ہوا التیام

۳۲

مندی آنکھ شہ کی ہوا طور اورستمگار کرنے لگے جور اورگیا وہ زمانہ ہوا دور اورگیا سوے سجاد وہ ازدحام

۳۳

لگا آگ خیمے جلانے لگےپدرمردہ کو کھینچ لانے لگےستائے ہوؤں کو ستانے لگےکھلے سر گئے مردمان خیام

۳۴

جگر میں بھری آگ آنکھوں میں آبمرض سے بدن کے تعب کی نہ تابقدم کانپتے راہ چلنا شتاببندھے ہاتھ میں اشتروں کی زمام

۳۵

نظر سوے اہل حرم دم بدمبہت باپ کے مرنے کا دل میں غممصیبت بہت جان میں تاب کمدکھ اس کا کہیں میرؔ کیا ہم غلام

۴۸۴ / ۵۸۲