کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر
جوش عشق
ضبط کروں میں کب تک آہ ابچل اے خامے بسم اللہ اب
کر ٹک دل کا راز نہانیثبت جریدہ میری زبانی
یعنی میرؔ اک خستۂ غم تھاسر تا پا اندوہ و الم تھا
آنکھ لڑی اس کی اک جاگہبے خود ہوگئی جان آگہ
صبر نے چاہی دل سے رخصتتاب نے ڈھونڈھی اک دم فرصت
تاب و توان و شکیب و تحملرخصت اس سے ہوگئے بالکل
سینہ فگاری سامنے آئیبے تابی نے طاقت پائی
کرتے آئے داغ سیاہیکام جگر کا کرنے تباہی
خون جگر ہو بہنے لاگاپلکوں ہی پر رہنے لاگا
خواب و خورش کا نام نہ آیاایک گھڑی آرام نہ پایا
چاک جگر سے محبت ٹپکیآنسو کی جاگہ حسرت ٹپکی
سوز سے چھاتی تابہ گویااور پلک خونابہ گویا
آہ سے اس کی مشکل جینادرد فقط تھا سارا سینہ
دل میں تمنا داغ جگر میںشیون لب پر یاس نظر میں
نالے شب کو اس کے سن کرمر گئے کتنے سر کو دھن کر
آہ و فغاں ہے اس کے لب پرروز ہے اب تک آفت سب پر
روے و جبیں پہ خراش ناخنداغوں سے خوں کے قیامت گلبن
زخم سینہ دل تک پہنچاکوئی نہ اس گھائل تک پہنچا
آبلہ دل کا جب کوئی پھوٹافوارہ لوہو کا چھوٹا
غم نے تو دل میں کیا ہے چھوڑابر میں تھا اک پکا پھوڑا
سو نہ گیا یک دم وہ بے کلبخت نہ جاگے اس کے اک پل
کام رہا ناکامی ہی سےتسکیں بے آرامی ہی سے
رخساروں پر خون رواں ہودل میں ہو سو منھ پہ عیاں ہو
دشنۂ غم سے سینہ کوچاناخن سے منھ سارا نوچا
دل آماجگہ غمناکیاور نفس اک تیر خاکی
نے طاقت نے یارا اس کوضعف دلی نے مارا اس کو
نالۂ دل میں حزینی اس کےخاطر میں غمگینی اس کے
رنگ اڑے چہرے کا ہر دمتھا گویا گل آخر موسم
دست بہ دل ہر آن رہے وہبے طاقت بے جان رہے وہ
رنگ شکستہ بس کہ فسردہکہنے کو زندہ لیکن مردہ
خوں باری سے چہرہ گل گوںحلق بسمل دیدۂ پرخوں
جدول جاری چاک گریباںگوشۂ دامن وقف مژگاں
دیدۂ تر کے دریا قائلساحل خشک لبی کے سائل
ہر دم ہو ہر سمت کو جاریخوں باری سے سیل بہاری
تشنہ لبی اک منھ پر پیدالب چش جس کا ہووے نہ دریا
خاک بسر آشفتہ سری سےشور قیامت نوحہ گری سے
سر تا پا آشفتہ دماغیداغ جنوں دے جس کو چراغی
غم سے گرچہ دم بھی کہیں تھاجامے میں اک تار نہیں تھا
وادی پر جب اپنے آوےصحرا صحرا خاک اڑاوے
کلفت دل جب خاک فشاں ہواشک کی جاگہ ریگ رواں ہو
گل ان نے ازبسکہ کھائےپھولوں کی چھڑیاں ہاتھ بنائے
دل کے غبار نے راہ جو پائیشہر میں گویا آندھی آئی
سر پر اس کے سنگ ہمیشہجی پر عرصہ تنگ ہمیشہ
آہ سرد کرے وہ عریاںبید سا کانپے موے پریشاں
گرد کی تہ اس کا پیراہندامن صحرا جس کا دامن
بار دامن تار گریباںدامن قرب و جوار گریباں
پامالی میں مثل جادہنقش قدم سا خاک افتادہ
دشت تلک گئی آبلہ پائیدور کھنچی اس کی رسوائی
اس کے جو پامال ہوئے سبخار بیاباں لال ہوئے سب
جن نے دیکھا اس کو یک دمان نے کہا یہ بھول کے سب غم
چندے یہ ناشاد رہے گاپر مدت تک یاد رہے گا
جلنا اس سے کرے نہ کنارہجیسے چراغ وقف بچارا
لوہو ٹپکے آہ سحر سےنالہ گتھواں لخت جگر سے
رکھتا سدا تھا وہ دیوانہورد زباں یہ شعر دانا
صارَ فوادی شقاً شقاًحقاً حقاً حقاً حقاً
ہوش و خرد ناشاد گئے سبدین و دل برباد گئے سب
درد دل سے کچھ نہ کہے وہہر اک کا منھ دیکھ رہے وہ
حسرت اس کی ایک اعجوبہآب دہن کی موج میں ڈوبا
غیر سے بولے نہ یاروں ہی سےبات کہے تو اشاروں ہی سے
سمجھو تو کوئی داد کو پہنچوعاشق کی فریاد کو پہنچو
ورنہ رہے من مار کر اپناسر دے مارے ہار کر اپنا
کیوں کر غم سے ہو آزادیجان کے ساتھ اس کی ناشادی
کوئی نہ اس پر سایہ گستراپنا ہاتھ اپنے ہی سر پر
نے کعبے نے دیر کے قابلمذہب اس کا سیر کے قابل
کیسا کہیے کیسا کچھ تھاالقصہ وہ ایسا کچھ تھا
در صفت دلبرے کہ با او علاقۂ دل بود
وہ کیسا تھا جس پر عاشقجی سے تھا وہ عاشق صادق
دیدۂ گل میں جاگہ اس کینکہت گل گرد رہ اس کی
چشم برہ سارا چمن اس کانقش قدم تھا یاسمن اس کا
آگے اس کے کبھو نہ آیایہ رو گل نے کہاں سے پایا
گل آشفتہ اس کے رو کاسنبل اک زنجیری مو کا
جب وہ چہرہ تابندہ ہوماہ دو ہفتہ شرمندہ ہو
زلف اس چہرے پر تابندہکاکل صبح سے خوش آئندہ
دیکھ اس گل کی نورافشانیشمع مجلس پانی پانی
ہو ہر چند یہ بدر کاملاس چہرے کے ہو نہ مقابل
حوصلہ کتنا اس بے تہ کامنھ دیکھو آئینہ مہ کا
رکھتی تھی دعویٰ خوش چشمی پرلیکن اس کی چشم نظر کر
بہتوں کی جب جانیں گھل گئیںنرگس کی بھی آنکھیں کھل گئیں
دور چشم ہے اس کا جب سےفتنہ اک سوتا نہیں تب سے
رخ لب سے جاں بخش عالمبلکہ سراپا جان مجسم
عیسیٰ کو گر لب دکھلاوےہرگز اس کو بات نہ آوے
کوئی مرو انداز حیا پرچشم اس کی تھی پشت پا پر
کچھ مت پوچھو تنگی دہن کیمشکل تھی واں جاے سخن کی
کرکے شمیم زلف گذارہپھیلاوے ہے عنبر سارا
خط آیا ہے گرد اس لب کےشاید شکر تنگ ہو اب کے
دونوں لب اس کے لعل بدخشاںدست حنائی پنجۂ مرجاں
تھا دیکھا یک رہ پردے میںبرق خرمن مہ پردے میں
جس دم برقع منھ سے اٹھاتاخورشید اس دم ڈوبا جاتا
پار دلوں کے خدنگ مژہ کاکاوش کم کم تنگ مژہ کا
بھوں کی کشش کا دوانہ عالمتیر نگہ کا نشانہ عالم
تیغ و تبر تھی ابرو اس کیآتش تھی سرکش جو اس کی
ناز کی مے سے مست رہے وہاکثر دست بدست رہے وہ
زلفوں کے سب تار پریشاںسر اوپر دستار پریشاں
سائے سے اس کے سرو بنایاخاک رہ سے تدرو بنایا
ہووے خراماں جب وہ کافرکبک کی ہووے جان مسافر
چشم کرشمہ جان تغافلشایاں اس کے شان تغافل
کیا جانے وہ حال کسو کاپتھر دل اس آئینہ رو کا
پاتے ہی ابرو کا اشارہغمزے نے اک خنجر مارا
جب وہ خرام ناز کرے ہےجی کو جور نیاز کرے ہے
رخصت دے گر عشوہ گری کوایک ہی جلوہ بس ہے پری کو
ہنسنے میں وہ صفاے دنداںبرق خرمن عالم امکاں
رشک سحر کو صافی تن پرخون صراحی اس گردن پر
آہ صفائی اس سینے کیغیرت افزا آئینے کی
شکل چیں میں یہ ناز کہاں ہےصورت ہے انداز کہاں ہے
ایسا خوب جہاں میں کہیں ہےرحم ہے اس پر اب جو نہیں ہے
جب وہ شکل نظر آتی تھیکلفت دل کی نکل جاتی تھی
رنگیں اس کے اس کف پا سےجائیں نکویاں اپنی جا سے
چشم کرو انصاف کی گر وایوسف و شیریں لیلیٰ عذرا
کون ہوا اس محبوبی سےخوبی تو تھی پر اس خوبی سے
بار نزاکت کیونکے اٹھاوےشاخ گل سا لہکا جاوے
ہے گی رگ گل یا رگ جاں ہےپر نازک اسرار میاں ہے
صید ملک قربانی اس کایوسف اک زندانی اس کا
اور جو خوباں پاویں اس کویک دیگر دکھلاویں اس کو
جاویں اس پر جان سبھوں کےتیغ رہے درمیان سبھوں کے
تھانبا جائے کس کے کنے وہغصے ہو تو پھر نہ منے وہ
کیا کوئی شوخی اس کی بتاوےکچھ ٹھہرے تو کہنے میں آوے
کیا ہے اس کے آب و گل میںآرزو اس کی سب کے دل میں
سب کو میل اس بت کی ادا کابندہ کون رہا ہے خدا کا
دیکھے نہ عاشق زار کو اپنےپوچھے نہ بیمار کو اپنے
عاشق ظلم و جور و جفا کادشمن جانی اہل وفا کا
کوچہ رشک فزاے کعبہواں پہنچے نہ دعاے کعبہ
ہر شب اک فریاد و تظلماٹھ گئی واں سے رسم ترحم
آہیں جن کی درود و وظائفسو دل خستے وھاں کے طائف
رخصت شدہ رفتن یار وبے تاب شدن عاشق بے قرار
کر اے خامہ وہ تحریر ابآوے زباں پر جو تقریر اب
یعنی میرؔ اس خستۂ غم کاسر تا پا اندوہ و الم کا
یار سفر کا مائل ہوکرحب وطن کو جی سے دھوکر
رخصت کو اس پاس بھی آیاجلتے کے تیں اور جلایا
وقت وداع قیامت گذراسر سے آب حسرت گذرا
اک دم بے خود ہوکے رہا وہاس سے آگے آپ گیا وہ
آنکھیں لگیں ناسور ہو بہنےدیکھ کے اس کو لگا یہ کہنے
ظلم ہے لوہو پیتے رہیےجان گئے پر جیتے رہیے
عمر عزیز چلی یوں جاوےاور فلک آنکھوں سے دکھاوے
آخر کرکے خدا کے حوالہآئینے پر پانی ڈالا
تاکہ وہ منھ دکھلاوے شتابیراہ دور سے آوے شتابی
یار گئے پر میرؔ جو اب ہےجان سے خالی اک قالب ہے
راقم غم ہے وہ دل تفتہنامہ بر اس کا رنگ رفتہ
غم سے فرصت اس کو کہاں ہےقاصد اشک ہمیشہ رواں ہے
خط لکھتا ہے اس مضموں سےتر ہو بال کبوتر خوں سے
خط سے ایک آتش سر ہووےجس سے کباب کبوتر ہووے
جب درد دل ان نے لکھا ہےشعلہ خط میں لپیٹ دیا ہے
سوز کے آوے جب وہ بیاں پرشعلہ اک جوں شمع زباں پر
جب کرے خون جگر سے انشایار کا اپنے شوق کف پا
ہو انگشت بریدہ خامہاور حنائی کاغذ نامہ
راہ یہ بیٹھا وہ سرگشتہدیکھے راہ عمر گذشتہ
آگے تھا کب ہجراں دیدہآہ وہ تازہ ظلم رسیدہ
کیا کیا بے طاقت ہوتا ہےہر دم جی رخصت ہوتا ہے
حال عجب ہے رنجوری سےمرنے قریب ہے وہ دوری سے
جب وہ درد دل کو جتاوےباتوں پہ اس کے رونا آوے
دستہ دستہ داغ بسر ہےپرکالہ پرکالہ جگر ہے
اشک نہیں آنکھوں سے ٹپکتاہے یہ گرہ اک دل کی تمنا
داغ دروں ہے گلشن گلشنگل یہ چنے وہ دامن دامن
چھوڑے نہ راہ و رسم وفا کودے پیغام ہمیشہ صبا کو
پاس اس کے گر تیرا ہو جانابھولے ہوؤں کو یاد دلانا
زیر لب اس کے بات یہی ہےشام و سحر دن رات یہی ہے
کھینچیں گے کب تک یہ سختی ہمپھر بھی ملیں گے جیتے جی ہم
بس اے خامہ رکھ لے زباں کوتاب نہیں ہے اہل جہاں کو
قصۂ غم کو نہایت کب ہےاس سے خموشی اب انسب ہے
۴۸۵ / ۵۸۲