کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر
جنگ نامہ
اب کے نواب رام پور آیاناگہاں اس طرف خدا لایا
آگے آتا تھا بہر سیر و شکاربازی یکسر روہیلی ہے اس بار
گرد تھی فوج کی سپہر تلکبن گیا اور ایک تازہ فلک
جمع افغاں پسر تھے اس جاگہلیک سارے تھے جنگ نا آگہ
یہ نہ سمجھے وزیر کوہ وقارہے تحمل سے رہ میں دیرگذار
یعنی تخریب ایک آن میں ہےروکشی اس کی کسر شان میں ہے
بے تہی سے وہ پیش جنگی کردانتے دے دے گرے ہراول پر
دیکھ کر لوگ تھوڑے ٹوٹ پڑےپکے پھوڑے کے رنگ پھوٹ پڑے
چتھے تلواروں میں فرنگی سےمرے مارے بہت کڈھنگی سے
تھا تہور نہ یہ شجاعت تھیساعت جنگ یا قیامت تھی
تھے تلنگے روہیلے محو جنگلوتھوں سے ہوگیا تھا عرصہ تنگ
گورے کالے جدا جدا کیا تھےدونوں مردم گیا سے یکجا تھے
دیو کا بھی نہ ٹھہرے پا اس جاتھا انھوں کا جہاں ثبات پا
سہل سردار سمجھا یہ مرنااللہ اللہ ترا جگر کرنا
توپ پر آن کر چلی تلوارجھیل کر زخم لڑ موا سردار
صاحب اک اور اس کی جا آیاجن نے ایسی ہلاکو چنوایا
جنگ مغلوبہ تھی گتھے باہممرتے تھے دونوں اور کے رستم
صاحب انگریز کے گرے اکثرتھک گئے لڑتے مرتے ہم دیگر
تاک کر باڑھ پہلو سے ماریصف الٹ دی حریف کی ساری
لشکری سب سراں سمیت رہےسبز جو کچھ ہوئے تھے کھیت رہے
نعش پر نعش گر کے ڈھیر ہوئےبھوکے مرتے کہ جی سے سیر ہوئے
پیچھے سردار تھا پٹھانوں کادیکھا جانا جو ان نے جانوں کا
خواب غفلت سے چونک اٹھا جاگادست پاچہ ہوا گیا بھاگا
مارے بھاگوں کو فوج نے لوٹامرگیوں میں سے بھی نہ اک چھوٹا
غارت ازبسکہ لشکری لائےنعشوں سے اشرفی روپئے پائے
وہ جو بھاگا تھا معرکہ سے رئیسبھاگا یوں جیسے پیش اسپ سئیس
ہوتے جو ہیں روہیلے ظلم شعارلٹتے جاتے تھے شہر راہگذار
رام پور میں بھی آکے رہ نہ سکاوہ خداگیر بات کہہ نہ سکا
بھاگا واں سے ہے لے کے کچھ اسبابکہ لگا آیا لشکر نواب
لی پناہ ان نے جا کے زیر کوہواں بھی تھا ساتھ کوہ کوہ انبوہ
تھا پہاڑی کے آگے جنگل بھیوہیں ناکہ پہ تھا یہ دنگل بھی
وھاں روہیلے ہوئے اکٹھے سببعد دو چار پنج روز و شب
عجز کی راہ سے کیا پیغامہم ہیں نواب کے کمینے غلام
بندے رہتے ہیں باوجود خطاتم سے صاحب امیدوار عطا
لطف کریے امیدواروں پررحم کریے گناہگاروں پر
ہم غلامی میں ہوتے ہیں حاضراب نہ خدمت سے ہوویں گے قاصر
کسو صاحب کو ہو حضور سے حکمموجب طوع وہ ہے دور سے حکم
کہ مجھے اپنے ہاتھ لے جاوےپاؤں کتنے کے عاجز آ پاوے
ذات نواب ہے کرم سیرتکہا صاحب کو تم بصد عزت
معرفت اپنے جا کے لاؤ اسےپاس خیمے میں لا بٹھاؤ اسے
یاکہ خیمہ جدا کرو استادہم اسے وقت پر کریں گے یاد
لایا صاحب چنانچہ خود جاکرپاس کرنا ہے تا نفر چاکر
سر میں اس کے خیال باطل تھاآپ بھی وہ جوان جاہل تھا
گفتگو میں کجی لگا کرنےہوا موجود مارنے مرنے
چاہتا تھا کہ آپ کو مارےبارے ہتھیار چھن گئے سارے
رفقا کے تئیں نکال دیارنجہ کر ٹہلوؤں کو ٹال دیا
اٹھ گئے جو حرام زادے تھےہو چکے دل میں جو ارادے تھے
عاقبت اس کو باندھ کر بھیجاکہا پلٹن سے لکھنؤ لے جا
جمع تھے لوگ سو پریشاں ہیںرہ گئے ہیں سو عجز کیشاں ہیں
جنگ کی صبح کے تئیں ہے نہ شامآشتی کے ہیں اب پیام و سلام
غالباً صبح آج کل ہووےبرطرف جملگی خلل ہووے
لے کے اب ملک و مال سب نوابراہ لیتے ہیں لکھنؤ کی شتاب
سال تاریخ کا تھا مجھ کو خیاللطف کے رو سے کی ملک نے مقال
کاے سخن گستر و جہاں استادفتح نواب سے کر اب دل شاد
میرؔ کوئی غزل کہو اب تملذت شعر میں رہو خود گم
غزل
گرد سر پھر کے کرتے پہروں پاسسو تو ہم لوگ اس کے آس نہ پاس
خط پہ خط بھیجتا تھا لکھوا کرجب تلک یار تھا نہ حرف شناس
دل نہ باہم ملے تو ہجراں ہےہم وے رہتے ہیں گو کہ پاس ہی پاس
عرش و دل میں رہے مگر برسوںوہم ہے پر کہیں کہیں ہے قیاس
ہے چلا جب سے وہ پریشاں ربطجمع اک دم رہے نہ میرے حواس
ناامیدی بھی حد رکھتی ہےجیتا کب تک رہے گا کوئی نراس
جز خدا ہم کسو سے ڈرتے نہیںگھر ہمارا ہے واں جہاں ہے ہراس
میں تو حیران کار ہوں بے ہوشکیونکے نکلے گی میرے دل کی بھڑاس
میرؔ وحشی کا دل ہے بے طاقتچلتا پھرتا ہے پر اداس اداس
غزل
رہے عمر بھر دیکھتے سادگاں کویہ جینے نہیں دیتے دل دادگاں کو
خبر قاصدوں کو نہیں اپنی شایدبہت دور بھیجا فرستادگاں کو
عجب سادگاں میں ہے قشقوں کی خوبینہ ہو عجب کیوں برہمن زادگاں کو
نہال اور سرو اس کے حیراں کھڑے ہیںکیا پاے گیر ان نے آزادگاں کو
رہے زیر دیوار ہم میرؔ برسوںنہ پوچھا کبھی خاک افتادگاں کو
۴۸۶ / ۵۸۲