حیدر کا جگر پارہ وہ فاطمہ کا پیارا
اس قوم کو تھی اس سے اک دشمنی جانیاس مرتبہ بے برگی اس درجہ نواخوانیوہ یوسف ثانی تھا جیسے کہ ہو زندانیمہمان عزیز ایسا تس کی ہو یہ مہمانیکھانے کو جراحت تھے پینے کے تئیں خوں تھاسب ساتھ کے لوگوں کا احوال دگرگوں تھا
About this couplet
This is couplet 2 of 17 in “حیدر کا جگر پارہ وہ فاطمہ کا پیارا” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (کلامِ میر).
Read it in the poem۲ / ۱۷