حیدر کا جگر پارہ وہ فاطمہ کا پیارا
سب چل بسے ہمراہی اس وادی ویراں میںکوئی نہ رہا اس کے انصار میں اعواں میںنونیزہ چڑھا پانی اس ظلم نمایاں میںپر پانی نہ دیکھا تھا جز دیدۂ گریاں میںآخر کو سفر اپنا ناچار ہو ٹھہرایاکیا کیا نہ خیال اس کو پھر جاتے ہوئے آیا
About this couplet
This is couplet 3 of 17 in “حیدر کا جگر پارہ وہ فاطمہ کا پیارا” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (کلامِ میر).
Read it in the poem۳ / ۱۷