کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر
خاک تیرے فرق پر اے بے مروت آسماں
خاک تیرے فرق پر اے بے مروت آسماںایک قطرہ آب کو ابن علی دیتا ہے جاںبھائی بیٹے اس کے مارے جاتے ہیں کیا کیا جواںکھول چشم مہر و مہ پھر وقت ملتا ہے کہاں
آنکھیں ہیں طالع ستارے پر نہیں تجھ کو نظرہاتھ دھلوا ایسے مہماں کے سعادت جان کرہو سکے تو صرف کر مقدور اس کا پانی بھرآگیا ہے ساقی کوثر کا نورچشم یاں
جان سے جب ہاتھ دھو بیٹھے گا یہ تب کیا حصولفائدہ جو تشنہ لب دریا کنارے ہو ملولاب بھی ہے وقت مروت شاد کر روح رسولؐورنہ اس خورشید کے ڈوبے سیہ ہوگا جہاں
گھر سیاہ اپنے کریں گے اس عزا میں سب امیراس کے ماتم میں بہت سے لوگ ہوویں گے فقیرسینہ کوبی کرتے کوچوں میں پھریں گے خرد و پیرعورتیں بے تاب نکلیں گی گھروں سے موفشاں
گریہ و زاری پہ رکھیں گے خردمنداں اساسجامۂ آبی مقرر ہوگا ہر اک کا لباسناخنوں سے لوگوں کے چہرے نچیں گے بے قیاسپتھروں سے سر کو دے دے ماریں گے خرد و کلاں
جمع نسواں موپریشاں سینہ کوباں دل کباباپنے کاکل کی طرح غصے سے سب پرپیچ و تابیک دل و غم بے حد و یک جان و رنجش بے حسابایک لب سو شوروشیں نوحے ہزاروں یک زباں
نعل سینوں پر جڑیں گے اور سر پھوڑیں گے لوگکھینچیں گے کتنے الف داغ اور کتنے لیں گے جوگدیر اس ماتم سرا میں رکھیں گے اس شہ کا سوگحلقہ حلقہ لوگ ہوں گے نوحہ ہوگا درمیاں
سود اپنا دیکھ کر اقدام کر خدمت کے بیچنیک نامی سے ہو تا مشہور تو خلقت کے بیچہو شریک رنج اس کا یعنی اس محنت کے بیچورنہ کیا ہے نفع کھینچے گا جو یہ جی کا زیاں
کر مروت رنج و غم سے اس مسافر کو نکالحاصل اس دم کیا ہے جس دم قطع ہو جاویں نہالگل جھڑیں بوٹے کٹیں غنچے ہوں یکسر پائمالخاک سی اس باغ کی دیوے اڑا باد خزاں
یعنی اس کے اقربا خویش و پسر مر جائیں گےتنگ ہو ناچار سر میدان میں کٹوائیں گےناتواں سجاد ہی کو سب کی جاگہ پائیں گےسو گلے میں اس کے طوق آہنیں ہوگا گراں
یار و انصار اس کے مارے جائیں گے یک بارگیہوگی اس جمع معزز میں عجب آوارگیاترے گا گھوڑے سے وہ زخمی بصد بے چارگیہوگا سر نیزے پہ جوں خورشید حشر اس کا عیاں
قافلہ لوٹا ہوا ناچار ہوگا گرم راہڈبڈبائیں سب کی آنکھیں زیر لب فریاد و آہدل شکستہ دست بستہ جان کی حالت تباہآگے آگے عابدیں بے یاور و بے مہرباں
موند کر آنکھیں جو یہ سید گیا جی سے گذرتو فسانہ یہ رہا جب تک کہ ہے نوع بشرعاقبت سے کچھ نہیں اس کام کی تجھ کو خبرتا قیامت چشم پوشی تیری ہووے گی بیاں
ماتمی سارے کہیں گے اے فلک یہ کیا کیاکنبہ اس کا مار کر سارا اسے تنہا کیاپھر یہ ہنگامہ سر بیکس پہ کیا برپا کیاجس سے وہ جی دے گیا ہے غم کدہ یہ خاکداں
الغرض شاکی رہیں گے تعزیہ دار اماممرثیہ میں میرؔ کے تیرے گلے ہوں گے تمامکرتے شیون منھ تری جانب کریں گے خاص و عامدیکھیں گے تیری طرف سر پیٹتے پیر و جواں
۴۹۵ / ۵۸۲