کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر
در حال مسافر جواں
خدا ایک فرقے میں مانا ہے عشقکہ نظم کل ان سب نے جانا ہے عشق
نہ ہو عشق تو انس باہم نہ ہونہ ہو درمیاں یہ تو عالم نہ ہو
یہ آفت زمانے کی معروف ہےزمانے میں جو ہے سو ماؤف ہے
نہیں اس سے خالی جہاں میں بشرسبھوں میں ہے ساری یہی فتنہ گر
کہیں داغ ہوکر جگر پر جلاکہیں زخم سینہ ہوا برملا
مزہ ہے یہ عاشق جہاں ہوگیاعزا ہے جو ان دونوں پر رو گیا
کسو دل میں جاکر ہوا درد یہکسو چہرے کو کر گیا زرد یہ
کسو کے لیے ہے بیاباں نوردکسو کی رہ دور کا ہے یہ گرد
کسو جان میں ہے تمناے وصلکسو دل سے اٹھا مہیاے فصل
کہیں سبزے میں چشمک گل ہواکہیں نالۂ زار بلبل ہوا
کہیں سرو برچیدہ دامن ہے یہکہیں قمری کا طوق گردن ہے یہ
کہیں پھول لالے کا ہے داغ دارکہیں اس سے ہے مضطرب لالہ زار
کہیں عشق و عاشق ہے معشوق ہےکہیں خالق و خلق مخلوق ہے
یہی عشق خلوت میں وحدت کے ہےیہی عشق پردے میں کثرت کے ہے
عجب عشق یہ شعبدہ باز ہےموافق گہے گاہ ناساز ہے
غرض طرفہ ہنگامہ آرا ہے عشقتماشائی عشق و تماشا ہے عشق
مساعد نہ تھا ایک سے روزگارکیا ان نے ترک وطن اختیار
پریشانی لائی کہیں سے کہیںبجز بیکسی ساتھ کوئی نہیں
سرا ایک تھی شہر کے درمیاںفرود آیا واں یہ مسافرجواں
ہوا آب گردش سے بیمار یہرہا اس سبب کوئی دن اس جگہ
کھنچا طول کو رفتہ رفتہ مرضدواے طبیباں سے آئے عرض
مراعات اسباب کی چند روزدوا سے بڑھا اور کچھ دل کا سوز
کیا ترک نومید ہوکر علاجکہا لوگوں سے خوش ہے میرا مزاج
مجھے حال ہی پر مرے چھوڑ دونہ لکھ پڑھ کے دل کو مرے توڑ دو
دوا چھوڑی غیرت سے وحشت ہوئیجنوں کرنے کی اس پہ تہمت ہوئی
خیال اس کا لوگوں نے چھوڑا ندانتعرض نہ کرتے تھے دیوانہ جان
پھرا کرتا تھا ایدھر اودھر خموشنہ کچھ دل میں طاقت نہ کچھ سر میں ہوش
شب و روز اپنے بسر یوں کرےمعیشت زمانے میں جوں توں کرے
یکایک ہوا قافلہ اک نمودقریب اس کے حجروں میں آیا فرود
تھی ساتھ اس کے اک دختر بے مثالگلستان خوبی کی تازہ نہال
پری شرم گیں اس کے رخسار سےغشی حور کو اس کی رفتار سے
قیامت ادا فتنہ در سر تھی وہعجب طرح کی آہ دلبر تھی وہ
نکلتی نہ پلکوں سے کم راہ تھینگہ لیک تا قتل ہمراہ تھی
نظرگاہ کا جوکہ مفتون ہوگریباں کرے چاک مجنون ہو
قنات آگے حجروں کے لی کھینچ سبلگی رہنے وہ رشک مہ روز و شب
پدر مادر اس کے نہ تھے درمیاںقبیلے کے کچھ لوگ لائے تھے یاں
کہ شادی کہیں اس کی کر دیجیےگئے لوگوں کا چندے غم کیجیے
سو نسبت ہوئی ہے کسی سے درستاہم کتخدائی ہے اس کی نخست
عروس اور داماد بعد از فراغوطن ان کو لے جائیں گے خوش دماغ
معونت کو دونوں کے ملک و معاشکفایت ہے بے کوشش و بے تلاش
مسافر ہوا اس پری سے دوچارہوا اس پہ سو جان و دل سے نثار
پری دار سا آنے جانے لگاجنوں کرتے شور اک اٹھانے لگا
کبھی بات کرتے جو اس کو سنابڑی دیر تک ان نے سر کو دھنا
کبھی چلتے پھرتے جو آئی نظرروش سے ہوئی اس کی حسرت دگر
بہت نازک اندام و شیریں کلامقد و قامت اس کا قیامت تمام
نگہ دل زدے کو مسل ڈالتیطرح سے جگر جان مل ڈالتی
ادا اک غضب ناز اک قہر تھاکرشمہ خرابی کن شہر تھا
سخن عشوہ غمزے سے کیا کوئی کرےکہ آنکھ اس کی اک پل پڑے تو مرے
بلا زیر سر فتنہ گر ناز تھاچمک برق خاطف کی انداز تھا
مژہ اس کے برگشتہ جی میں کھبےنگہ اس کی سرتیز دل میں چبے
کشیدہ بھویں دو کمانیں تھیں پاکجھکیں جب حریفاں بہت ہوں ہلاک
صفا سے وہ رخسار آئینہ واردکھائی دے منھ ان میں ہوتے دوچار
دہن غنچہ لب اس کے گل برگ تردل آویز گیسو و عنبر نظر
گل اندام گل پیرہن گل بدندل آرام و دلچسپ دلکش سخن
سراپا سے اس کے یہ حیرت رہےکھڑی اس کی ہر جاے صورت رہے
مسافر بھی حیران رفتار تھابکا جاتا تھا جو خریدار تھا
لپک کر جو چلتی دل آویز تھیکفک پاؤں کی کیا بلاخیز تھی
اس آفت نے اک روز مہندی لگاسر پا سے فتنے ہزاروں جگا
دیے چھاپ شوخی سے دیوار و دررہا نازک ان انگلیوں کا اثر
اٹھے نقش پنجوں کے اس ڈھنگ سےکہ چھاپے کے گل کب ہوں اس رنگ سے
جو نقاش وہ نقش کرتا نظرتو رہ جاتا ہاتھوں کو بھی کھینچ کر
کئی دن میں شادی قریب آ رہیسرا میں سے اٹھ شہر میں جا رہی
یہ افسانہ یھاں کا یہیں رہ گیامسافر سے عشق اس کا کیا کہہ گیا
پریشاں دلی اس کی اس حد ہوئیکہ طبع خوش اس سے بہت بد ہوئی
پھرے تو پھرے جیسے آفت زدہرہے تو رہے جیسے محنت زدہ
چلے تو پریشاں پری دار ساگرے فرش پر سست بیمار سا
جو سونے کو ہو تو کہاں اس کو خوابپری یاد آوے ہوں آنکھیں پرآب
نہ سایہ خوش آوے نہ دھوپ اس کو بھائےجہاں جائے وحشت لیے ساتھ جائے
کبھو جیسے دیوانہ رووے ہنسےکبھو شہر سے دشت میں جا بسے
کھڑا ہے کہیں ہو پریشان ساکہیں دیکھتا ہے تو حیران سا
کسی سے کرے بات تو دل کہیںنہ ہرگز کہے دل کی مشکل کہیں
جو آنکھیں تھیں اس کی نظر میں سو تھیںجو پلکیں چبھی تھیں جگر میں سو تھیں
شب و روز اس کو یہی تھا خیالکہ کیا خوب صورت ہیں کیا لمبے بال
کہوں خوبی کب تک کہ ہر جا سے خوبتکلف نہیں کچھ سراپا سے خوب
قیامت ہے اس کی کمر کی لچکسرکتی تھی دھچکے سے سر کی لچک
نظر سیمیں ساعد پہ کیا جا پڑےکہ بجلی سی ایدھر چمک آ پڑے
کف دست سینے پہ رکھے نہاںتو راحت اٹھاوے گی صد رنگ جاں
قیامت کا ٹکڑا تھا وہ قد راستیہ حرف و سخن ہیں مرے راست راست
خرام اس کا دل ہاتھ سے لے گیاکلام اس کا مردوں کو جی دے گیا
سخن کرنے لگتی وہ محبوب جبتو دلکش قیامت تھی تحریک لب
اگر ہنستی آئے ہے وہ کامنیتو یوں دانت چمکے ہیں جوں دامنی
نہال قد اس کا تھا گلبن مثالکف پا تھے گلبرگ پاے نہال
سرا میں مسافر جو شب آرہاوہیں مہترانی نے جاکر کہا
کہ اے نوسفر عشق کی راہ کےجدائی کش اس غیرت ماہ کے
تو اس حجرے میں جو رہا چند ماہسو گلخن سا ہے حال حجرہ تباہ
نہ لیپا گیا ہے نہ جھاڑا گیاخرابہ سا ہے وہ اکھاڑا گیا
ہوا مزبلہ سا خس و خار سےکہ صحبت رہی تجھ سے بیمار سے
تو اس حجرے میں چار دن جاکے رہرہی تھی جہاں آکے وہ رشک مہ
کروں سیم کل جھاڑ خاشاک و خاکیہ گھر بھی ہو پرنور و صاف اور پاک
پھر آرہیو اس میں ترا ہے مکاںکوئی کھینچ کر لے گیا اس کی جاں
مسافر اسی گھر میں اٹھ جا رہاسکونت کو ان نے جہاں تھا کہا
منقش نظر آئے دیوار و درحنائی انھیں پنجوں کا تھا اثر
نشاں اس کے ہاتھوں کا دل لے گیاہر اک نقش صدرنگ غم دے گیا
کہیں حیرتی نقش دیوار ساکہیں عشق سے سست بیمار سا
اکیلا جو اس حجرے میں پا گیاغم عشق اسے زندہ ہی کھا گیا
اٹھا اونٹ کر خوں ز جوش جنوںیہ ہوتا چلا زرد و زار و زبوں
ہوا فرش خواب اس کا فرش مرضکہ تھی عشق کو مرگ اس کی غرض
بڑھی ناتوانی نہ طاقت رہینہ اک بات کرنے کی فرصت رہی
کئی دن رہا بس طلب چشم واوہیں شوق کش جی عدم کو گیا
مسافر سرا سے نہ واں اٹھ گیایہ جی اس سرا ہی میں اس کا اٹھا
گیا چھوڑ پایاں سرا نوسفرلیے ساتھ ہجراں میں داغ جگر
نہ وارث تھا کوئی کہ اس کو اٹھائےرکھے نعش کاندھے پہ تا گور جائے
کچھ اس مہترانی نے تزئین کیمروت سے تجہیز و تکفین کی
جنازہ نکالا بڑی شان سےنماز اس کی کی سو مسلمان سے
کیا اس سرا ہی میں مدفوں اسےکیا تھا محبت نے مجنوں اسے
سیوم کرکے اس کا نہ ماتم کیاتمام اس سفرکردہ کا غم کیا
نہ وارث تھا کوئی جو لے تعزیہکیا کچھ تو للہ سب نے کیا
سنا جب کہ یہ واقعہ ہوچکاتو شادی سے وہ جمع فارغ ہوا
زن و شو وطن کے تئیں جائیں گےکوئی روز رہ کر یہاں آئیں گے
سرا کے ہے سب لوگوں کو انتظارکہ کب آوے گی رشک باغ و بہار
سرا اس کے رہنے سے گلزار تھیکرم خصلت و لطف کردار تھی
کہا شو نے منزل کریں گے جہاںکوئی دن رہیں گے ضرورت کو وھاں
پھر اس میں سرا ہو مکاں ہو کوئیبیاباں ہو یا گلستاں ہو کوئی
ہمیں اس سرا میں نہ جانا ہے خوبجہاں سے اٹھے پر نہ آنا ہے خوب
مبارک نہیں رجعت قہقریٰخدا جانے پیش آوے ہم سب کو کیا
زن اصرار کر اس ہی جا میں گئیکشش عشق کی لے سرا میں گئی
اترتے دگرگوں ہوا حال دلوہی کوٹھری میں تھی پتھر کی سل
کھنچا عشق کے جذب سے یہ تعبکہ مطلق نہ ملتے تھے وہ لعل لب
وہ آنکھیں کہ تھیں رشک چشم غزالٹھٹھک رہ گئیں آئینے کی مثال
وہ گوندھے ہوئے بال الجھے کیےپریشاں ہوئے پھر نہ سلجھے کیے
گل سرخ رخسار مرجھا چلےشکن کھا بہار اس کی لٹوا چلے
گیا طائر رنگ پرواز کرملامت رہی عشق کی سازگر
لگی رونے آزردہ ہو زار زارگیا جذب الفت سے صبر و قرار
جگر چھن گیا عشق سے سو طرفندان ایسی آفت میں ہوگئی تلف
طرح اس کی جینے کی سی اب نہیںکوئی دم نہیں دل کی تسکیں کہیں
وہی مضطرب ہے وہی بے حواسوہی جذب سے عشق کے ہے اداس
سفرکردہ کا حال پرساں ہوئیبہت سی بہت دل پریشاں ہوئی
کہا سو کہا مہترانی سے یہکہ وہ یھاں جو رہتا تھا کیدھر ہے کہہ
خیال اس کا جاں سے مجھے لے گیامسافر عجب داغ اک دے گیا
سرا میں فرود آئی میں کس گھڑیمسافر کی صورت تھی آکے کھڑی
جہاں دیکھتی ہوں پلک میں اٹھااسی کی ہے ترکیب جلوہ نما
ادھر دیکھے ہے ایک حسرت کے ساتھکھڑا ہے خموش ایک حیرت کے ساتھ
جدھر جاؤں وہ بھی چلا جاوے ہےمرے ساتھ پرچھائیں سا جاوے ہے
جگر جان و دل میں نہیں رہتی تابنہ ہے چین دن کو نہ ہے شب کو خواب
جو میں جانتی اس سرا کے یہ ڈھنگتو کیوں آ اترتی مسافر کے رنگ
نہ جا سکتی ہوں اب نہ رہ سکتی ہوںپشیمانی سے کچھ نہ کہہ سکتی ہوں
مگر شو سے مجھ کو ندامت ہوئیمری جان پر یھاں قیامت ہوئی
کیا عشق سو دنگ ہوں میں بہتکہ اس جینے سے تنگ ہوں میں بہت
نشاں دے ترے پاس رہتا تھا وہسدا درد دل تجھ سے کہتا تھا وہ
گیا یھاں سے اٹھ کر تو کیدھر گیاکہیں جا کے جیتا ہے یا مر گیا
کہا مہترانی نے بے تاب دیکھکہ قربان میں اب نہ یہ خواب دیکھ
مسافر سرا میں رہا مر گیاجدا تجھ سے کام اپنا وہ کر گیا
کیا تیری فرقت نے اس کو ہلاکہوا میرے ہاتھوں سے وہ زیر خاک
تو ضائع نہ کر آپ کو صبر کرغم و غصے سے جی پہ مت جبر کر
سن اس واقعے کو بہت غم کیاعزا میں بہت حال درہم کیا
کہا حیف صد حیف بیکس مواگڑھاگور پھر یوں میسر ہوا
چپ اب عشق کا راز رسوا نہ ہوخدا جانے ظاہر جو کیا کیا نہ ہو
ترے چپکے رہنے سے ممنون ہوںمیں اس منت احساں کی مرہون ہوں
مبادا سنے شوے ناساز کچھلگاویں اسے اور غماز کچھ
سن اس زشت کاری کو ناچار ہومجھے ذبح کرنے کو تیار ہو
شفاعت سے کوئی نہ پھر پیش آئےعبث جان پرآرزو میری جائے
شتاب اس کی تربت پہ لے چل مجھےکشش اس کی رکھتی ہے بے کل مجھے
مخاطب چلی لے کے غافل اسےکہ جاذب ہے وہ جذب کامل اسے
کمیں میں ہے مالوف کش اشتیاقہوئی زندگی مردہ ساں اس کو شاق
جنازے پہ آئی نہ تھی وہ پریہوئی گور پر اس کی جلوہ گری
برابر گئے شق ہوئی اس کی قبرگیا اس کے دل سے سکوں اور صبر
شتابی گئی ساتھ والی کو چھوڑلیا مردہ عاشق نے گویا مروڑ
کھنچی جو گئی گرد اس گور سےمسافر بھی آیا بہت دور سے
بغل گیر عاشق ہوئی زیر خاکہوئی ہمکناری میں آخر ہلاک
زمیں مل گئی جب یہ آخر ہوئیمسافر سے مل کر مسافر ہوئی
گیا ہوش اس کا جو ہمراہ تھیزباں پر فغاں تھی بلب آہ تھی
اچنبھا سا یہ سانحہ ہوگیاعجب طور کا واقعہ ہوگیا
حواس اڑ گئے اس کے جن نے سناٹھٹھک ہی گیا دیر تک سر دھنا
سرا میں گئی شور سے غم کیابہت حال کو اپنے درہم کیا
خبر شوے ناساز کو بھی ہوئیکہ وہ نازنیں جا سرا میں موئی
گریباں دراں خاک افشاں گیالب گور خاطرپریشاں گیا
کہا گور کھولیں پھر اب بیلدارکہ بن آنکھوں دیکھے نہیں ہے قرار
کھلی گور دیکھا تو چسپاں تھی وہگلے لگ رہی تھی پہ بے جاں تھی وہ
جدا کرتے مشکل جدا وہ ہوئیکمال اشتیاق اس کو تھا جو موئی
نئی گور کر دفن اس دم کیانہ غیرت سے شوہر نے ماتم کیا
بنا ایک روضہ پئے صالحہموافق کیا رسم کے فاتحہ
گیا شو گیا شہر سے بھی گیاکہ ہمسر کے یوں مرنے کے تھا جیا
یہ ہے میرؔ وہ عشق خانہ خرابکہ جی جن نے مارے ہیں یھاں بے حساب
محابا کسو کا اسے کچھ نہیںرہا بے محابا سدا ہر کہیں
۴۹۶ / ۵۸۲