کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر

در حال مسافر جواں

۱

خدا ایک فرقے میں مانا ہے عشقکہ نظم کل ان سب نے جانا ہے عشق

۲

نہ ہو عشق تو انس باہم نہ ہونہ ہو درمیاں یہ تو عالم نہ ہو

۳

یہ آفت زمانے کی معروف ہےزمانے میں جو ہے سو ماؤف ہے

۴

نہیں اس سے خالی جہاں میں بشرسبھوں میں ہے ساری یہی فتنہ گر

۵

کہیں داغ ہوکر جگر پر جلاکہیں زخم سینہ ہوا برملا

۶

مزہ ہے یہ عاشق جہاں ہوگیاعزا ہے جو ان دونوں پر رو گیا

۷

کسو دل میں جاکر ہوا درد یہکسو چہرے کو کر گیا زرد یہ

۸

کسو کے لیے ہے بیاباں نوردکسو کی رہ دور کا ہے یہ گرد

۹

کسو جان میں ہے تمناے وصلکسو دل سے اٹھا مہیاے فصل

۱۰

کہیں سبزے میں چشمک گل ہواکہیں نالۂ زار بلبل ہوا

۱۱

کہیں سرو برچیدہ دامن ہے یہکہیں قمری کا طوق گردن ہے یہ

۱۲

کہیں پھول لالے کا ہے داغ دارکہیں اس سے ہے مضطرب لالہ زار

۱۳

کہیں عشق و عاشق ہے معشوق ہےکہیں خالق و خلق مخلوق ہے

۱۴

یہی عشق خلوت میں وحدت کے ہےیہی عشق پردے میں کثرت کے ہے

۱۵

عجب عشق یہ شعبدہ باز ہےموافق گہے گاہ ناساز ہے

۱۶

غرض طرفہ ہنگامہ آرا ہے عشقتماشائی عشق و تماشا ہے عشق

۱۷

مساعد نہ تھا ایک سے روزگارکیا ان نے ترک وطن اختیار

۱۸

پریشانی لائی کہیں سے کہیںبجز بیکسی ساتھ کوئی نہیں

۱۹

سرا ایک تھی شہر کے درمیاںفرود آیا واں یہ مسافرجواں

۲۰

ہوا آب گردش سے بیمار یہرہا اس سبب کوئی دن اس جگہ

۲۱

کھنچا طول کو رفتہ رفتہ مرضدواے طبیباں سے آئے عرض

۲۲

مراعات اسباب کی چند روزدوا سے بڑھا اور کچھ دل کا سوز

۲۳

کیا ترک نومید ہوکر علاجکہا لوگوں سے خوش ہے میرا مزاج

۲۴

مجھے حال ہی پر مرے چھوڑ دونہ لکھ پڑھ کے دل کو مرے توڑ دو

۲۵

دوا چھوڑی غیرت سے وحشت ہوئیجنوں کرنے کی اس پہ تہمت ہوئی

۲۶

خیال اس کا لوگوں نے چھوڑا ندانتعرض نہ کرتے تھے دیوانہ جان

۲۷

پھرا کرتا تھا ایدھر اودھر خموشنہ کچھ دل میں طاقت نہ کچھ سر میں ہوش

۲۸

شب و روز اپنے بسر یوں کرےمعیشت زمانے میں جوں توں کرے

۲۹

یکایک ہوا قافلہ اک نمودقریب اس کے حجروں میں آیا فرود

۳۰

تھی ساتھ اس کے اک دختر بے مثالگلستان خوبی کی تازہ نہال

۳۱

پری شرم گیں اس کے رخسار سےغشی حور کو اس کی رفتار سے

۳۲

قیامت ادا فتنہ در سر تھی وہعجب طرح کی آہ دلبر تھی وہ

۳۳

نکلتی نہ پلکوں سے کم راہ تھینگہ لیک تا قتل ہمراہ تھی

۳۴

نظرگاہ کا جوکہ مفتون ہوگریباں کرے چاک مجنون ہو

۳۵

قنات آگے حجروں کے لی کھینچ سبلگی رہنے وہ رشک مہ روز و شب

۳۶

پدر مادر اس کے نہ تھے درمیاںقبیلے کے کچھ لوگ لائے تھے یاں

۳۷

کہ شادی کہیں اس کی کر دیجیےگئے لوگوں کا چندے غم کیجیے

۳۸

سو نسبت ہوئی ہے کسی سے درستاہم کتخدائی ہے اس کی نخست

۳۹

عروس اور داماد بعد از فراغوطن ان کو لے جائیں گے خوش دماغ

۴۰

معونت کو دونوں کے ملک و معاشکفایت ہے بے کوشش و بے تلاش

۴۱

مسافر ہوا اس پری سے دوچارہوا اس پہ سو جان و دل سے نثار

۴۲

پری دار سا آنے جانے لگاجنوں کرتے شور اک اٹھانے لگا

۴۳

کبھی بات کرتے جو اس کو سنابڑی دیر تک ان نے سر کو دھنا

۴۴

کبھی چلتے پھرتے جو آئی نظرروش سے ہوئی اس کی حسرت دگر

۴۵

بہت نازک اندام و شیریں کلامقد و قامت اس کا قیامت تمام

۴۶

نگہ دل زدے کو مسل ڈالتیطرح سے جگر جان مل ڈالتی

۴۷

ادا اک غضب ناز اک قہر تھاکرشمہ خرابی کن شہر تھا

۴۸

سخن عشوہ غمزے سے کیا کوئی کرےکہ آنکھ اس کی اک پل پڑے تو مرے

۴۹

بلا زیر سر فتنہ گر ناز تھاچمک برق خاطف کی انداز تھا

۵۰

مژہ اس کے برگشتہ جی میں کھبےنگہ اس کی سرتیز دل میں چبے

۵۱

کشیدہ بھویں دو کمانیں تھیں پاکجھکیں جب حریفاں بہت ہوں ہلاک

۵۲

صفا سے وہ رخسار آئینہ واردکھائی دے منھ ان میں ہوتے دوچار

۵۳

دہن غنچہ لب اس کے گل برگ تردل آویز گیسو و عنبر نظر

۵۴

گل اندام گل پیرہن گل بدندل آرام و دلچسپ دلکش سخن

۵۵

سراپا سے اس کے یہ حیرت رہےکھڑی اس کی ہر جاے صورت رہے

۵۶

مسافر بھی حیران رفتار تھابکا جاتا تھا جو خریدار تھا

۵۷

لپک کر جو چلتی دل آویز تھیکفک پاؤں کی کیا بلاخیز تھی

۵۸

اس آفت نے اک روز مہندی لگاسر پا سے فتنے ہزاروں جگا

۵۹

دیے چھاپ شوخی سے دیوار و دررہا نازک ان انگلیوں کا اثر

۶۰

اٹھے نقش پنجوں کے اس ڈھنگ سےکہ چھاپے کے گل کب ہوں اس رنگ سے

۶۱

جو نقاش وہ نقش کرتا نظرتو رہ جاتا ہاتھوں کو بھی کھینچ کر

۶۲

کئی دن میں شادی قریب آ رہیسرا میں سے اٹھ شہر میں جا رہی

۶۳

یہ افسانہ یھاں کا یہیں رہ گیامسافر سے عشق اس کا کیا کہہ گیا

۶۴

پریشاں دلی اس کی اس حد ہوئیکہ طبع خوش اس سے بہت بد ہوئی

۶۵

پھرے تو پھرے جیسے آفت زدہرہے تو رہے جیسے محنت زدہ

۶۶

چلے تو پریشاں پری دار ساگرے فرش پر سست بیمار سا

۶۷

جو سونے کو ہو تو کہاں اس کو خوابپری یاد آوے ہوں آنکھیں پرآب

۶۸

نہ سایہ خوش آوے نہ دھوپ اس کو بھائےجہاں جائے وحشت لیے ساتھ جائے

۶۹

کبھو جیسے دیوانہ رووے ہنسےکبھو شہر سے دشت میں جا بسے

۷۰

کھڑا ہے کہیں ہو پریشان ساکہیں دیکھتا ہے تو حیران سا

۷۱

کسی سے کرے بات تو دل کہیںنہ ہرگز کہے دل کی مشکل کہیں

۷۲

جو آنکھیں تھیں اس کی نظر میں سو تھیںجو پلکیں چبھی تھیں جگر میں سو تھیں

۷۳

شب و روز اس کو یہی تھا خیالکہ کیا خوب صورت ہیں کیا لمبے بال

۷۴

کہوں خوبی کب تک کہ ہر جا سے خوبتکلف نہیں کچھ سراپا سے خوب

۷۵

قیامت ہے اس کی کمر کی لچکسرکتی تھی دھچکے سے سر کی لچک

۷۶

نظر سیمیں ساعد پہ کیا جا پڑےکہ بجلی سی ایدھر چمک آ پڑے

۷۷

کف دست سینے پہ رکھے نہاںتو راحت اٹھاوے گی صد رنگ جاں

۷۸

قیامت کا ٹکڑا تھا وہ قد راستیہ حرف و سخن ہیں مرے راست راست

۷۹

خرام اس کا دل ہاتھ سے لے گیاکلام اس کا مردوں کو جی دے گیا

۸۰

سخن کرنے لگتی وہ محبوب جبتو دلکش قیامت تھی تحریک لب

۸۱

اگر ہنستی آئے ہے وہ کامنیتو یوں دانت چمکے ہیں جوں دامنی

۸۲

نہال قد اس کا تھا گلبن مثالکف پا تھے گلبرگ پاے نہال

۸۳

سرا میں مسافر جو شب آرہاوہیں مہترانی نے جاکر کہا

۸۴

کہ اے نوسفر عشق کی راہ کےجدائی کش اس غیرت ماہ کے

۸۵

تو اس حجرے میں جو رہا چند ماہسو گلخن سا ہے حال حجرہ تباہ

۸۶

نہ لیپا گیا ہے نہ جھاڑا گیاخرابہ سا ہے وہ اکھاڑا گیا

۸۷

ہوا مزبلہ سا خس و خار سےکہ صحبت رہی تجھ سے بیمار سے

۸۸

تو اس حجرے میں چار دن جاکے رہرہی تھی جہاں آکے وہ رشک مہ

۸۹

کروں سیم کل جھاڑ خاشاک و خاکیہ گھر بھی ہو پرنور و صاف اور پاک

۹۰

پھر آرہیو اس میں ترا ہے مکاںکوئی کھینچ کر لے گیا اس کی جاں

۹۱

مسافر اسی گھر میں اٹھ جا رہاسکونت کو ان نے جہاں تھا کہا

۹۲

منقش نظر آئے دیوار و درحنائی انھیں پنجوں کا تھا اثر

۹۳

نشاں اس کے ہاتھوں کا دل لے گیاہر اک نقش صدرنگ غم دے گیا

۹۴

کہیں حیرتی نقش دیوار ساکہیں عشق سے سست بیمار سا

۹۵

اکیلا جو اس حجرے میں پا گیاغم عشق اسے زندہ ہی کھا گیا

۹۶

اٹھا اونٹ کر خوں ز جوش جنوںیہ ہوتا چلا زرد و زار و زبوں

۹۷

ہوا فرش خواب اس کا فرش مرضکہ تھی عشق کو مرگ اس کی غرض

۹۸

بڑھی ناتوانی نہ طاقت رہینہ اک بات کرنے کی فرصت رہی

۹۹

کئی دن رہا بس طلب چشم واوہیں شوق کش جی عدم کو گیا

۱۰۰

مسافر سرا سے نہ واں اٹھ گیایہ جی اس سرا ہی میں اس کا اٹھا

۱۰۱

گیا چھوڑ پایاں سرا نوسفرلیے ساتھ ہجراں میں داغ جگر

۱۰۲

نہ وارث تھا کوئی کہ اس کو اٹھائےرکھے نعش کاندھے پہ تا گور جائے

۱۰۳

کچھ اس مہترانی نے تزئین کیمروت سے تجہیز و تکفین کی

۱۰۴

جنازہ نکالا بڑی شان سےنماز اس کی کی سو مسلمان سے

۱۰۵

کیا اس سرا ہی میں مدفوں اسےکیا تھا محبت نے مجنوں اسے

۱۰۶

سیوم کرکے اس کا نہ ماتم کیاتمام اس سفرکردہ کا غم کیا

۱۰۷

نہ وارث تھا کوئی جو لے تعزیہکیا کچھ تو للہ سب نے کیا

۱۰۸

سنا جب کہ یہ واقعہ ہوچکاتو شادی سے وہ جمع فارغ ہوا

۱۰۹

زن و شو وطن کے تئیں جائیں گےکوئی روز رہ کر یہاں آئیں گے

۱۱۰

سرا کے ہے سب لوگوں کو انتظارکہ کب آوے گی رشک باغ و بہار

۱۱۱

سرا اس کے رہنے سے گلزار تھیکرم خصلت و لطف کردار تھی

۱۱۲

کہا شو نے منزل کریں گے جہاںکوئی دن رہیں گے ضرورت کو وھاں

۱۱۳

پھر اس میں سرا ہو مکاں ہو کوئیبیاباں ہو یا گلستاں ہو کوئی

۱۱۴

ہمیں اس سرا میں نہ جانا ہے خوبجہاں سے اٹھے پر نہ آنا ہے خوب

۱۱۵

مبارک نہیں رجعت قہقریٰخدا جانے پیش آوے ہم سب کو کیا

۱۱۶

زن اصرار کر اس ہی جا میں گئیکشش عشق کی لے سرا میں گئی

۱۱۷

اترتے دگرگوں ہوا حال دلوہی کوٹھری میں تھی پتھر کی سل

۱۱۸

کھنچا عشق کے جذب سے یہ تعبکہ مطلق نہ ملتے تھے وہ لعل لب

۱۱۹

وہ آنکھیں کہ تھیں رشک چشم غزالٹھٹھک رہ گئیں آئینے کی مثال

۱۲۰

وہ گوندھے ہوئے بال الجھے کیےپریشاں ہوئے پھر نہ سلجھے کیے

۱۲۱

گل سرخ رخسار مرجھا چلےشکن کھا بہار اس کی لٹوا چلے

۱۲۲

گیا طائر رنگ پرواز کرملامت رہی عشق کی سازگر

۱۲۳

لگی رونے آزردہ ہو زار زارگیا جذب الفت سے صبر و قرار

۱۲۴

جگر چھن گیا عشق سے سو طرفندان ایسی آفت میں ہوگئی تلف

۱۲۵

طرح اس کی جینے کی سی اب نہیںکوئی دم نہیں دل کی تسکیں کہیں

۱۲۶

وہی مضطرب ہے وہی بے حواسوہی جذب سے عشق کے ہے اداس

۱۲۷

سفرکردہ کا حال پرساں ہوئیبہت سی بہت دل پریشاں ہوئی

۱۲۸

کہا سو کہا مہترانی سے یہکہ وہ یھاں جو رہتا تھا کیدھر ہے کہہ

۱۲۹

خیال اس کا جاں سے مجھے لے گیامسافر عجب داغ اک دے گیا

۱۳۰

سرا میں فرود آئی میں کس گھڑیمسافر کی صورت تھی آکے کھڑی

۱۳۱

جہاں دیکھتی ہوں پلک میں اٹھااسی کی ہے ترکیب جلوہ نما

۱۳۲

ادھر دیکھے ہے ایک حسرت کے ساتھکھڑا ہے خموش ایک حیرت کے ساتھ

۱۳۳

جدھر جاؤں وہ بھی چلا جاوے ہےمرے ساتھ پرچھائیں سا جاوے ہے

۱۳۴

جگر جان و دل میں نہیں رہتی تابنہ ہے چین دن کو نہ ہے شب کو خواب

۱۳۵

جو میں جانتی اس سرا کے یہ ڈھنگتو کیوں آ اترتی مسافر کے رنگ

۱۳۶

نہ جا سکتی ہوں اب نہ رہ سکتی ہوںپشیمانی سے کچھ نہ کہہ سکتی ہوں

۱۳۷

مگر شو سے مجھ کو ندامت ہوئیمری جان پر یھاں قیامت ہوئی

۱۳۸

کیا عشق سو دنگ ہوں میں بہتکہ اس جینے سے تنگ ہوں میں بہت

۱۳۹

نشاں دے ترے پاس رہتا تھا وہسدا درد دل تجھ سے کہتا تھا وہ

۱۴۰

گیا یھاں سے اٹھ کر تو کیدھر گیاکہیں جا کے جیتا ہے یا مر گیا

۱۴۱

کہا مہترانی نے بے تاب دیکھکہ قربان میں اب نہ یہ خواب دیکھ

۱۴۲

مسافر سرا میں رہا مر گیاجدا تجھ سے کام اپنا وہ کر گیا

۱۴۳

کیا تیری فرقت نے اس کو ہلاکہوا میرے ہاتھوں سے وہ زیر خاک

۱۴۴

تو ضائع نہ کر آپ کو صبر کرغم و غصے سے جی پہ مت جبر کر

۱۴۵

سن اس واقعے کو بہت غم کیاعزا میں بہت حال درہم کیا

۱۴۶

کہا حیف صد حیف بیکس مواگڑھاگور پھر یوں میسر ہوا

۱۴۷

چپ اب عشق کا راز رسوا نہ ہوخدا جانے ظاہر جو کیا کیا نہ ہو

۱۴۸

ترے چپکے رہنے سے ممنون ہوںمیں اس منت احساں کی مرہون ہوں

۱۴۹

مبادا سنے شوے ناساز کچھلگاویں اسے اور غماز کچھ

۱۵۰

سن اس زشت کاری کو ناچار ہومجھے ذبح کرنے کو تیار ہو

۱۵۱

شفاعت سے کوئی نہ پھر پیش آئےعبث جان پرآرزو میری جائے

۱۵۲

شتاب اس کی تربت پہ لے چل مجھےکشش اس کی رکھتی ہے بے کل مجھے

۱۵۳

مخاطب چلی لے کے غافل اسےکہ جاذب ہے وہ جذب کامل اسے

۱۵۴

کمیں میں ہے مالوف کش اشتیاقہوئی زندگی مردہ ساں اس کو شاق

۱۵۵

جنازے پہ آئی نہ تھی وہ پریہوئی گور پر اس کی جلوہ گری

۱۵۶

برابر گئے شق ہوئی اس کی قبرگیا اس کے دل سے سکوں اور صبر

۱۵۷

شتابی گئی ساتھ والی کو چھوڑلیا مردہ عاشق نے گویا مروڑ

۱۵۸

کھنچی جو گئی گرد اس گور سےمسافر بھی آیا بہت دور سے

۱۵۹

بغل گیر عاشق ہوئی زیر خاکہوئی ہمکناری میں آخر ہلاک

۱۶۰

زمیں مل گئی جب یہ آخر ہوئیمسافر سے مل کر مسافر ہوئی

۱۶۱

گیا ہوش اس کا جو ہمراہ تھیزباں پر فغاں تھی بلب آہ تھی

۱۶۲

اچنبھا سا یہ سانحہ ہوگیاعجب طور کا واقعہ ہوگیا

۱۶۳

حواس اڑ گئے اس کے جن نے سناٹھٹھک ہی گیا دیر تک سر دھنا

۱۶۴

سرا میں گئی شور سے غم کیابہت حال کو اپنے درہم کیا

۱۶۵

خبر شوے ناساز کو بھی ہوئیکہ وہ نازنیں جا سرا میں موئی

۱۶۶

گریباں دراں خاک افشاں گیالب گور خاطرپریشاں گیا

۱۶۷

کہا گور کھولیں پھر اب بیلدارکہ بن آنکھوں دیکھے نہیں ہے قرار

۱۶۸

کھلی گور دیکھا تو چسپاں تھی وہگلے لگ رہی تھی پہ بے جاں تھی وہ

۱۶۹

جدا کرتے مشکل جدا وہ ہوئیکمال اشتیاق اس کو تھا جو موئی

۱۷۰

نئی گور کر دفن اس دم کیانہ غیرت سے شوہر نے ماتم کیا

۱۷۱

بنا ایک روضہ پئے صالحہموافق کیا رسم کے فاتحہ

۱۷۲

گیا شو گیا شہر سے بھی گیاکہ ہمسر کے یوں مرنے کے تھا جیا

۱۷۳

یہ ہے میرؔ وہ عشق خانہ خرابکہ جی جن نے مارے ہیں یھاں بے حساب

۱۷۴

محابا کسو کا اسے کچھ نہیںرہا بے محابا سدا ہر کہیں

۴۹۶ / ۵۸۲