کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر
در حال عشق
ہے غبار وادی وحدت جہاںکثرت اعیان ہوگی اب عیاں
پرفشاں تھا ٹک جو طاؤس قدمآسماں پر آسماں پہنچے بہم
عشق اپنا آپ ہی شیدا ہواتھا جو پنہاں پردے میں پیدا ہوا
نظم کل کا ڈول ڈالا عشق نےانس سے انساں نکالا عشق نے
وہ حقیقت سب میں یاں ساری ہوئیہے گی ہر شے عشق کی ماری ہوئی
چار سو ہنگامہ آرا عشق ہےعشق کیا کہیے کہ کیا کیا عشق ہے
عشق ہی کا ہے جہاں میں سب ظہورنور و ظلمت ہو کہ ہو ظل و حرور
عشق گل ہے عشق بلبل عشق بوعشق ہے سرو چمن عشق آبجو
ہے کہیں بندہ کہیں ہے یہ خداعشق کی ہے ہر جگہ شان جدا
عشق ہر کشور میں لاتا ہے کتابعشق کے لوگوں سے ہیں کیا کیا خطاب
یاں سے پیغمبر ہے لایا عشق کاعشق کو پیغام آیا عشق کا
مسجد و منبر کیے تازہ بناواں امام پاک خود آکر بنا
عشق کے آغاز دیکھے رنگ رنگموم وے دل ہوگئے جو دل تھے سنگ
سنگ سے پھر لعل نکلا بے بہایعنی وہ دل جملگی خوں ہوگیا
کچھ بہا یاقوت سیلانی ہوابستہ قطرہ لعل رمانی ہوا
عاشق و معشوق رفتہ عشق کےیعنی دونوں سینہ تفتہ عشق کے
بھڑکی آتش عشق کی دونوں جلےڈوبے دریا میں ہوں گو پانی تلے
یا جلایا ایک ہندستاں کے طورجا جلے ہے زن بھی اس بے جاں کے طور
جل چکے کو ہندی کہتے ہیں ستیست بمعنی استقامت واقعی
آگ میں جا بیٹھے زن کا ظرف کیاعشق ہی کا جاذبہ دے ہے جلا
گرمی ہنگامہ اس کا قہر ہےپھونک دیوے گر دیار و شہر ہے
عشق پردہ در نہ ہو رسوا کرےپھر تماشا ہے جو کچھ پردہ کرے
عشق کو ہے خون کرنے کا مزہمار ہی رکھتا ہے اپنے ڈھب چڑھا
مارگیری اس کی سیکھے اژدہےعشق نے معشوق و عاشق چٹ کیے
عشق و دل میں ہے قدیمی دشمنیعشق سے ہے دل گدازی جاں کنی
عشق کا پا درمیاں آیا جہاںدل ٹھہرتا واں نہیں ہرگز نہ جاں
عشق دشمن ہے بلاے جان و دلعشق ہے ہم دل شکن ہم جاں گسل
ہے سلوک عشق کا مارا جہاںخاک میں ان نے ملایا آسماں
کون راہ عشق کو کرتا ہے سرہر طرف ہے جان کو اس میں خطر
عشق زورآور سے سب ہیں ترس ناککشتی اس کی ہوگئی عالم سے پاک
عشق کا ہے بادیہ مشکل گذردیکھے اودھر مر ہی جاتے ہیں نمر
روبہ اس جنگل میں ہے شیر دلیروہ کوئی واں جائے جو ہو جی سے سیر
دژ کہ ہاتھی کم کرے ہے کوئی میلبچ کے نکلے ہے ادھر سے تند سیل
بالا بالا دیوقد گینڈا گیااینڈا اینڈا راہ واں اس پر چلا
یوز ہیں گے فکر ترک گشت میںکب گیا کفتار ایسے دشت میں
عشق کے جنگل میں ہیبت سے طیورپرفشاں ہوتے نہیں ہیں دور دور
قو نہیں پر مارتا ازبس ہراسکب اڑا سیمرغ اس کے آس پاس
کیا درندہ کیا چرندے کیا پرنددل ہے جن کے عشق ہے ان کا کشند
آدمی سے خاص اس کو لاگ ہےبہر انساں عشق کی تیز آگ ہے
دل بڑا ہے اس کا ہر کار کلاںیک بیک کرنا قبول اس کو بجاں
ہمت عاشق جو ہے ازبس بلندکار باطل ہی ہیں اس کے حق پسند
۴۹۷ / ۵۸۲