کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر

در حال افغاں پسر

۱

چمن سے عنایت کے بادام وارالٰہی زباں دے مجھے مغزدار

۲

صفت عشق کی تا کروں میں بیاںرہوں عشق کہنے سے میں تر زباں

۳

عجب عشق ہے مرد کارآمدجہاں دونوں اس کے ہیں برہم زدہ

۴

جہاں جنگ صف کی یہ ظالم لڑاصف الٹی جہاں ایک مارا پڑا

۵

اگر لوگ مارے گئے سر بسرولے فتح اس کی ہے یہ طرفہ تر

۶

کوئی کشتنی جو طرف ہوگیاتہ تیغ اس کے تلف گیا

۷

جہاں جس کسو سے اسے چاہ ہےوہیں اس کے تا قتل ہمراہ ہے

۸

کسو سے اگر ہوگئی لاگ سیدرونے میں اس کے لگی آگ سی

۹

ہوا ملتفت یہ کسو سے کہیںتو نام و نشاں اس کا پھر داں نہیں

۱۰

وفاق اس کا نکلا سراسر نفاقپڑا عاشقوں میں عجب اتفاق

۱۱

جواں کیسے کیسے موئے عشق میںبہت گھر خرابے ہوئے عشق میں

۱۲

بہت عشق میں لوگ روگی ہوئےبہت خاک مل منہ پہ جوگی ہوئے

۱۳

گئے دشت میں کچھ نمد مو ہوئےکچھ اک شہر میں پھر کے یکسو ہوئے

۱۴

نہ مرغہی ہے نالاں و زارگئے داغ کہسار سے لالہ وار

۱۵

کسو کا جگر غم سے خوں ہوگیاکسو کوہکن کو جنوں ہوگیا

۱۶

کوئی زار باراں بہت رو چکاکوئی برق سا جل بجھا ہوچکا

۱۷

غرض عشق کا ہر طرف شور ہےنئی روز شہروں میں اک گور ہے

۱۸

بہت جان ناکام دیتے گئےتمناے دل ساتھ لیتے گئے

۱۹

بہت اہل اسلام کافر ہوئےبہت اول عشق آخر ہوئے

۲۰

بہت جرم الفت پہ مارے گئےجوا عشق بازی کا ہارے گئے

۲۱

ہوئے خانداں کیسے کیسے خرابجواں جوں جوانی گئے کیا شتاب

۲۲

کیا عشق جس دن سے مرتے رہےجیوں ہی کا اندیشہ کرتے رہے

۲۳

کسے عشق نے جی سے مارا نہیںیہی درد ہے درد چارہ نہیں

۲۴

دوا عشق کی سخت نایاب ہےسر عاشقاں سنگ کا باب ہے

۲۵

جو ہو عشق عارض تو پھر یاس ہےعبث کوئی دن جینے کا پاس ہے

۲۶

محبت ہے نیرنگ ساز عجیبفسانے ہیں اس کے عجیب و غریب

۲۷

کوئی عشق کرنا دھرا تھا درےگئے مے کدے سے بھی صوفی پرے

۲۸

نہ واں مکرو نے شیدو طامات ہےخرابات جانا کرامات ہے

۲۹

کہیں عشق نے آرزو کش کیےگئے خوش جو عاشق سو ناخوش کیے

۳۰

کہیں سہل تر یار مرنے لگےکہیں لوگ دشوار مرنے لگے

۳۱

کہیں کام ان نے کیے ہیں عجبفسانہ ہوئی بزم عیش وطرب

۳۲

کہیں بادشہ اس سے درویش ہیںکہیں اس سے درویش دل ریش ہیں

۳۳

لیا کاہ کا کوہ سے کیں کہیںملائے کہیں آسماں و زمیں

۳۴

کہیں پڑگئے اس سے فتنے فسادرہے زیر شمشیر حد سے زیاد

۳۵

یہ عالم کا آشوب ہے دہر سےمراد خطرگہ ہے اس شہر سے

۳۶

ہوئے عشق میں زہد کیشاں خرابرہے دل شکستہ پریشاں خراب

۳۷

اٹھا عشق سے مجلس حال دہرتواجد لگے کرنے شیخان شہر

۳۸

کیا عشق میں ترک صوم و صلوٰۃگئے اہل مسجد سوے سومنات

۳۹

مسلماں ہوئے عشق میں برہمنگئے کعبہ کو چھوڑ دین کہن

۴۰

نہ سبحہ نہ زنار نے کفر و دیںجہاں سب ہے عشق اور کچھ بھی نہیں

۴۱

محبت کے ساغرکش اہل صلاحیہ بے ہوش دارو ہے ان کی فلاح

۴۲

کوئی ہوش میں اپنے رہتا نہیںہر اک چپ ہے کچھ کوئی کہتا نہیں

۴۳

رباطی ہیں خانہ سیہ عشق میںمصلے ہوئے ان کے تہ عشق میں

۴۴

ہمہ خاندان تفاوت خرابخرابے سے ہیں بے تفاوت خراب

۴۵

یہی عشق جس کے کہ حاصل ہے کامیہی عشق ہے جس سے نکلا ہے نام

۴۶

اسی عشق جس سے کہ حاصل ہے کامیہی عشق ہے جس سے نکلا ہے نام

۴۷

اسی عشق ہے عقدۂ دل ہے یہیہی عشق حلال مشکل ہے یہ

۴۸

کہیں اس کو لڑنے سے پایا معافکہیں ان نے میدان مارے ہیں صاف

۴۹

کہیں مومنانہ اسے درد دیںکہیں کافرانہ ہوا بے یقیں

۵۰

غرض عشق ہے طرفہ نیرنگ سازکہیں ناز یکسر کہیں ہے نیاز

۴۹۸ / ۵۸۲