کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر
در جشن ہولی و کتخدائی
آؤ ساقی شراب نوش کریںشور سا ہے جہاں میں گوش کریں
آؤ ساقی بہار پھر آئیہولی میں کتنی شادیاں لائی
شادیاں بے شگوں سراسر ہیںکوچے سو شہر کے برابر ہیں
دست دستور ہے جو زرافشاںپھر جہان کہن ہوا ہے جواں
دونوں رستے عمارت خوش ہےتازہ کاری شہر دلکش ہے
اور بازاری رنگ لائے ہیںسارے رنگیں ستوں لگائے ہیں
جس طرف دیکھو معرکہ سا ہےشہر ہے یا کوئی تماشا ہے
چشم بد دور ایسی بستی سےیہی مقصد ہے ملک ہستی سے
لکھنؤ دلی سے بھی بہتر ہےکہ کسو دل کی لاگ ایدھر ہے
آئیں بستہ ہوا ہے سارا شہرکاغذیں گل سے گلستاں ہے دہر
ایسے گل پھول ہیں جو صرف کارراہ رستے ہوئے ہیں باغ و بہار
بستہ آئیں دکانیں ہیں یکسرجن میں سستی متاع لعل و گہر
میوۂ نورس و رسیدہ بہتگل خوش رنگ و بوے چیدہ بہت
شب شادی کو لڑکے ہوں جو سوارلیں صغیر و کبیر بہر نثار
تخت بہر زنان رقص کناںچنے رستوں میں بے چنیں و چناں
گل کاغذ سے شہر ہے گلزارتوکہے آئی ہے بہار اے یار
ساقیا عیش کا ہو بزم آراسارے لوگوں میں جام مے کو پھرا
جس میں تہ پاوے اس پری کو دےورنہ شیشے کی شیشے میں رکھ لے
ہوگی مجلس جو مست آسائشکون دیکھے گا لطف آرائش
آؤ ساقی قرار ہے باہمکہ تماشاکناں پھریں خرم
زن رقاص پر نگاہ کریںکسو سادے سے چل کے راہ کریں
کسو دلبر کے کھینچ لیویں ہاتھکسو محبوب کو اٹھالیں ساتھ
کسو خوش رو کے منھ پہ منھ رکھ لیںکنج لب کا کہیں مزہ چکھ لیں
خوش تنوں سے کریں ہم آغوشیکسو نازک بدن سے ہم دوشی
کہیں دو جام مے سے ہوں سرمستجائیں گے تھوڑی دور دست بہ دست
مچلے بن جائیں گے کسو کو دیکھپھر منیں گے کسو کے رو کو دیکھ
اب گلابی کو لیں گے بھر بھر ہمباقی ساقی پئیں گے پھر کر ہم
کہیں آرائش آ کے دیکھیں گےکاغذیں باغ جا کے دیکھیں گے
کسو مہوش سے ہوویں گے گل بازکھینچیں گے ایک دو دم اس کے ناز
آؤ ساقی مئے دوآتشہ دےاسی مے کا بغل میں شیشہ لے
گرم ہو جو دماغ انساں کالطف آوے نظر چراغاں کا
جس طرف دیکھیے چراغاں ہےشیشہ و شمع ہی نمایاں ہے
باغ سے روشنی ہوئی ہے زیادہے یہ ہنگامہ تا جلال آباد
شمع و فانوس کا بہت ہے ہجومشمعی رنگوں نے کر رکھی ہے دھوم
لوٹیے ان گلوں کی اب تو بہارگو کسو کے گلے کا ہوجیے ہار
اب تو اودھم ہی مچ گیا ہر سودارو پی کر پھریں چلیں ہم تو
تارے سے ہیں چراغ چار طرفآسماں پر زمیں رکھے ہے شرف
غنچہ غنچہ دیوں کو دیکھیں جہاںکسو نوگل سے رکھیں صحبت واں
کہیں نوبت کو چل کے سنیے گانے کے بجنے پہ سر کو دھنیے گا
نوبتی خوش سلیقے سارے ہیںنے نوازوں نے جان مارے ہیں
آج نوبت کے بجنے پر ہے رنگعقل ہوتی ہے سن ٹکورے دنگ
جھانجھ کے سننے کی رہی ہے جھانجھصبح جوں توں کے ہم کریں ہیں سانجھ
بیچ میں ہولی آئی ہے ساقیپھیرے سرخوش ہیں تابکے ساقی
شیشہ شیشہ شراب اب پیجےبلکہ خم منھ لگا کے سب پیجے
سیر کریے کنار نہر و گشتلالہ و گل کھلے ہیں تا سر دشت
انھیں پھولوں کے انعکاس سے آبتوکہے لالہ رنگ سب ہے شراب
سبد گل ہوئی ہے ہر کیاریایک ہے گل زمیں زمیں ساری
درمیاں اک شجر نہیں بدبرگہے ہزارہ کہ لالۂ صدبرگ
جوش لالہ سے تا النگ و سنگشفقی ہوگیا ہوا کا رنگ
تخت کیونکر نہ ہو دماغ خاکدشت در دشت ہے گل تریاک
پھر لبالب ہیں آب گیر رنگاور اڑے ہے گلال کس کس ڈھنگ
پاس آتے ہیں مرغ گلشن بھولتھے وے دلبر گلاب کے سے پھول
زعفرانی لباس تھے سب کےرسمسے آئے صبح کو شب کے
پگڑیاں جامے بھیگے سو سو ہیںان کو گل ہاے تر کہیں تو ہیں
چھڑیاں پھولوں کی دلبروں کے ہاتھسیکڑوں پھولوں کی چھڑی سے ساتھ
قمقمے جو گلال کے مارےمہوشاں لالہ رخ ہوئے سارے
خوان بھر بھر عبیر لاتے ہیںگل کی پتی ملا اڑاتے ہیں
جشن نوروز ہند ہولی ہےراگ رنگ اور بولی ٹھولی ہے
عشق ہے اے گروہ آتش زندونوں رستے چراغ ہیں روشن
ٹھاٹھ کیا روشنی کے باندھ دیےشہر میں نام روشن اپنے کیے
دوردو تھے خیال و سوانگ آئےگھوڑے دامن سوار کیا لائے
روشنی وار سے ہے پار تلکگل کا کاغذ ہے فرق خار تلک
در دولت سے لے کے تا سر آبہے چراغ اور شمع ہی کی تاب
پھر سر پل سے تا عمارت نوجلتے ہیں مجتمع دیے سو سو
ہاتھی رنگے گئے پڑی ہے دھومجیسے ابر سیاہ آئے جھوم
خیمہ استادہ کرچکے شب بازپتلیوں نے کیا خرام ناز
یاں کی صحبت کا تھا نمونہ سبشاہ دستور حکم و کار ادب
آئے شکلیں بنا کے صورت بازڈوم ڈھاڑی بنے بجا کر ساز
نقل معقول کی سو حاجی بنےسج کے عمامے سر پہ کتنے جنے
کوئی جوگی کوئی فقیر بناکوئی ڈاڑھی لگا کے پیر بنا
کوئی بنیا بنا کوئی اوباشنقل کرنی تھی ان سبھوں کی معاش
کوئی شاعر بنا نہ جس کی نظیرجیسے مستغرق خیال تھا میرؔ
کچھ سپاہی بنے تھے کچھ تجارکوئی زاہد ہوا کوئی خمار
جس کی تقلید کی سو ویسی طرحاصل ہوتی نہیں ہے ایسی طرح
کرکے سعی و تلاش چاروں دانگخوب دیکھا تو ہے یہ عالم سوانگ
آؤ ساقی نہ رکھ خراب احوالدیے جا جام بادہ مالامال
چل سواری کا سیر بھی ہے بڑاایک عالم ہے دونوں رستہ کھڑا
جل زربفت پوش فیل نشاںکوہ زر سا ہے پیش پیش رواں
کدخدا ہونے کو چلا دولہیال گوپال عظم سے جوں شہ
گل کی پاکھر پڑی ہوئی یک بارہاتھی آیا بہ رنگ ابر بہار
زری پوشوں کا پیش و پس انبوہاللہ اللہ ری ان کی شان و شکوہ
قور میں کتنے سونے کے سے پہاڑآگے روپے کے روشنی کے جھاڑ
موتی کرتے تھے ہر طرف سے نثارتھا مگر فیل ابر گوہربار
ہیں جلو میں زمینیاں حاضرجاہ کے آسمانیاں حاضر
عمدہ سب ساتھ ہیں وزیر سمیتشاعراں مدح خواں ہیں میرؔ سمیت
تازی ترکی عراقی و عربیکوتل آگے تھے خوش جلو میں سبھی
رہ میں رکھ لو جہاں کہ منھ کے نرمچھیڑے باد سموم سے ہوں گرم
آؤ ساقی پلا شراب ہمیںروشنی کی نہیں ہے تاب ہمیں
روشنی بھی ہے کوئی ہنگامہسیر میں گرم ہوگیا جامہ
گرمی سے مشعلوں کی آئے تنگدود مشعل ہے جاے کاہی رنگ
دو طرف سیم بندی کردی ہےسونے روپے سے راہ بھر دی ہے
شمعیں لاکھوں کنول میں ہیں روشنزور پھولا ہے کاغذیں گلشن
واہ آتش زنان آتش دستدارو پی کر پھرو ہو کیسے مست
توپیں کیا ڈھالیں ہیں ستاروں کیکھوئی رونق فلک کے تاروں کی
تارے موقوف کچھ سما پہ نہیںتوپیں چھوٹیں مگر ہوا پہ نہیں
ماہ بھی چشم روشنی کے لیےہے چراغاں ستارگاں سے کیے
گنج چھوٹے ہیں یاکہ باڑ جھڑییا ہوائی ہے جگنیوں کی چھڑی
گل فشاں ہیں پڑی جو پھل جھڑیاںکھلتیاں ہیں دلوں کی گل جھڑیاں
چھوٹتے ہیں انار و مہتابیرنگ ہیں دلبروں کے مہتابی
باؤ سے دو دیے ہوئے گر مانددغیں مہتابیاں کہ نکلے چاند
آؤ اے مطربان سیرآہنگساتھ اپنے لیے رباب و چنگ
ہو غزل خوان بزم عیش و طربپر نہ کریو خیال ترک ادب
منعقد مجلس شہانہ ہےادب آصف زمانہ ہے
آؤ ساقی مجھے قرابہ دےدر بغل شیشہ ساتھ اپنے لے
بحر بخشش کی لہریں اب آئیںزر و گوہر کی کشتیاں لائیں
ہے بلند اس کرم کا کیا پایہدیتے ہیں خلعت گراں مایہ
طرہ ہاے زری و بادلہ تاستختہ ہاے دوشالہ تحفہ لباس
بہت ان میں سیے بہت نہ سیےایک دم میں سبھوں کو بخش دیے
خاص ملبوس نوع نوع تماملے گئے شاد بھر کے مردم عام
کیا بچھا ہے فراخ دسترخوانجس پہ ہے خلق یک جہاں مہمان
تورہ بندی ہوئی تکلف سےکھانے نکلے نئے تصرف سے
لطف کے ساتھ نعمتوں کا وفورزیر ہر جعبہ قاب ہے پرنور
عام تھا ان لطافتوں سے طعامدیتے لیتے تھے ہر سحر ہر شام
کس کو اسباب یہ میسر ہیںظرف سیمین جعبۂ زر ہیں
ہیں جو مہمان پادشاہ و گداحرص دونوں کی سیر ہے یکجا
عمر و دولت ہو اس کی حد سے زیادہے اسی سے جہاں نشاط آباد
آؤ ساقی غزل سرا بھی ہولذت شعر سے مزہ بھی ہو
غزل
اب کی بہار کیا کیا دریا پہ رنگ لائییک شہر نکلے لالہ پھر اس میں ہولی آئی
کی فکر سال تاریخ آواز غیب آئیہم نے کبھو ندیکھی اس رنگ کدخدائی
آنکھوں کی روشنی تھی اپنی ہوئی دوچنداںطالع نے چاندنی میں کیا روشنی دکھائی
ہو باد جس طرف کی آنکھیں ادھر ہیں اس کینرگس کا اس ہوا میں دیدہ بھی ہے ہوائی
بے گل رہے نہ یک دم بلبل کے آہ و نالےمحبوب سے کسو کو یارب نہ ہو جدائی
گل تک ہنسا نہ مجھ سے بلبل نہ بولی ہرگزکس کس کی بے دماغی بے یار میں اٹھائی
ہم بھی رہے ہوا وہ جب تک جوان جاہلکی عمر رفتنی نے بارے نہ بے وفائی
اخواں زمانہ کے تو کیا جانیں دل لگی کولگتی ہے جس کے دل کو وہ جانتا ہے بھائی
ہے دام گاہ دنیا ہر جا فریب اس میںدیتی نہیں دکھائی اپنی مجھے رہائی
گذری جو کچھ سو گذری یاری میں دلبروں کیمیرؔ اب کسو سے تم تو کریو نہ آشنائی
۴۹۹ / ۵۸۲