کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر
در تہنیت کدخدائی بشن سنگھ
آؤ ساقی کہ بزم عشرت ہےچشم بد دور خوب صحبت ہے
ازسرنو جواں ہوا ہے جہاںکدخدائی بشن سنگھ ہے یھاں
فرط شادی سے دل ہے جشن آبادہر طرف ہے بہم مبارک باد
باؤ کرتی پھرے ہے پھول نثارگلشن دہر میں ہے تازہ بہار
آؤ مطرب لیے رباب اور چنگکاڑھ منھ سے نواے سیرآہنگ
شادمانی سے ہو نواپردازاہل مجلس ہیں گوش بر آواز
یاں سوا دل خوشی کے کام نہیںچپکے رہنے کا یہ مقام نہیں
آؤ ساقی کہ جمع ہیں احبابسب مہیا ہیں عیش کے اسباب
لا وہ جوں آفتاب ساغر زرآب گل رنگ سے لبالب کر
آج جھوما ہے ابر بخشش زورکچھ نظر ہے تجھے ہوا کی اور
دست راجا ہیں ابر نیسانیمتصل کرتے ہیں درافشانی
کر چمن زار و دشت دلکش سیرہیں نہال آج آشنا و غیر
گل نمط دل شگفتہ سب کے کیےخلعت فاخرہ سبھوں کو دیے
زر و گوہر دیے زبس ساقیکچھ نہیں بحر و کان میں باقی
لا کہاں ہے وہ لالہ رنگ شرابجس سے مست گزارہ ہوں احباب
آ مغنی غزل سرائی کرکچھ مزہ سے بھی آشنائی کر
پڑھ غزل میرؔ کی جو ہووے یاداس کو اس فن میں کہتے ہیں استاد
غزل
ساقیا موسم جوانی ہےگرو بادہ کامرانی ہے
دے پیالہ کہ نقل مجلس عیشخوب رویاں کی بدزبانی ہے
لاؤ آب کشادہ دل کو گھولعین الطاف و مہربانی ہے
روے خوباں سے بزم کا ہے فروغشمع خجلت سے پانی پانی ہے
رشک گلزار ہے یہ صحبت عیششش جہت جوش گل فشانی ہے
آؤ مطرب ہوں زمزمہ پردازدے بہار گذشتہ کو آواز
گل و لالہ پہ چشم باز کرےرنگ صحبت کو دیکھ ناز کرے
چھیڑ ساز طرب نوا کے تئیںباندھ آواز سے ہوا کے تئیں
وجد میں لاؤ مے پرستوں کویاد دے ٹک سرودمستوں کو
آؤ ساقی کہ روشنی ہے خوبگرم عشرت ہیں ہر طرف محبوب
نار مشعل نے نائرہ کھینچانور کو مہ نے دائرہ کھینچا
کثرت روشنی سے شب ہے روزخشت سیمیں ہے ماہ دل افروز
صبح صادق کے منھ پہ کب ہے فروغاس کو دعویٰ جو تھا وہ سب ہے دروغ
اب تو شیشہ شراب لا ساقیصحبت عیش کو چھکا ساقی
لاؤ رنگ رخ نکویاں کومایۂ ناز خوب رویاں کو
چاہیے ہے گلابی مئے نابجام ہے چشم روشنی کا باب
اس پری کو نکال شیشہ سےرنگ مجلس میں ڈال شیشہ سے
لطف کر ٹک وہ دل کی آسائشتا نظر آوے لطف آرائش
آؤ ساقی کہ ہوں تماشائیگرم خدمت ہے چرخ مینائی
چل ہوائی سے شعلہ خیزی دیکھآسماں کی ستارہ ریزی دیکھ
متصل چھوٹتے جو ہیں گے انارراہ و رستے ہوئے ہیں باغ و بہار
عشق ہے تازہ کار آتش بازپھول گل میں ہے رنگ رنگ اعجاز
دیکھ صنعت گری صنعت گرگل کاغذ ہے غیرت گل تر
دیکھ ساقی تزک سواری کاچھوڑ آئین بردباری کا
چل گلابی کو ہاتھ میں لے لےایک دو جام متصل دے لے
فیل یوں ہیں گے جھومتے جاتےجیسے آویں جوان مدھ ماتے
نوبتی اپنی اپنی نوبت ہےصرف کر جو ہنر کی طاقت ہے
دور ہے اب سپہر کا دلخواہہیں وضیع و شریف سب ہمراہ
آ سواری کا ٹک اصول بجاؤطبع موزون اہتزاز میں لاؤ
ساتھ راجا سوار ہوتا ہےشہر باغ و بہار ہوتا ہے
جل زربفت سے ہے فیل و نشاںآگے مانند کوہ زر کے رواں
زور گوہر نثار کرتے ہیںخلق کو مایہ دار کرتے ہیں
دیوے راجا تو کیا لیا چاہےخوشہ خوشہ گہر دیا چاہے
پھینکتے ہیں جو دستہ دستہ گلرہگذر میں ہیں رستہ رستہ گل
برق پارہ جو جستہ جستہ ہیںسینکڑوں ویسے بال بستہ ہیں
گردنوں میں پڑیں حمائل گلہیں جلو میں بصد شمائل گل
لاؤ ساقی گل گلاب شرابدے مجھے اب کہیں شتاب شراب
ہے شگفتہ دماغ دل وا ہےنشہ اس عیش کا دوبالا ہے
رائے صاحب لباس زر در برنشۂ عیش و دلکشی در سر
زیر راں ایک اسپ خوش رفتارگرم رفتن ہو تو ہے برق شعار
خوش سواری و خوش جلو خوش راہچھیڑ دیجے تو پھر نہ ٹھہرے نگاہ
کسمسانے میں ران کے اڑ جائےہاتھ ہلتے میں جیسے کل مڑ جائے
ہے تو گلگوں بہار کا خوش رنگکام ہے اس پہ اس کے حسن سے تنگ
دوردو ہے اگرچہ اسپ خیالبھول جاتا ہے اس کے آگے چال
ہیں مرصع جو اس کی زین و لگامچشم کرتی ہے خیرگی ہر گام
باگ اس کی جو ٹک اچک جائےپارۂ برق سا چمک جائے
دے نہ وہ شیشہ اب جو باقی ہےحسن ایسا بھی اتفاقی ہے
جب سے ہے اس جہاں کی آبادیتب سے ایسی نہیں ہوئی شادی
ہو مبارک یہ جشن خوش انجامدور گردوں بہ کام عیش مدام
آؤ ساقی پڑھیں غزل کوئیدرمیاں اب نہیں خلل کوئی
غزل
موسم ابر ہے سبو بھی ہوگل ہو گلشن ہو ایک تو بھی ہو
کب تک آئینہ کا یہ حسن قبولمنھ ترا اس طرف کبھو بھی ہو
کس کو بلبل ہے دم کشی کا دماغہو تو گل ہی کی گفتگو بھی ہو
ہے غرض عشق صرف ہے لیکنشرط ہے یہ کہ جستجو بھی ہو
ہو جو تیرا سا رنگ گل گاہےریجھیں ہم تب جب ایسی بو بھی ہو
دل تمناکدہ تو ہے پر یھاںہو تو تیری ہی آرزو بھی ہو
سرکشی گل کی خوش نہیں آتیناز کرنے کو ویسا رو بھی ہو
پا سکے اس کمر کو دست شوقجو نمایاں بقدر مو بھی ہو
رو کش میرؔ ہوتے ناشاعرجب انھیں ویسی آبرو بھی ہو
۵۰۰ / ۵۸۲