کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر

در تعریف سگ و گربہ کہ در خانۂ فقیر بودند و باہم ربط داشتند

۱

سگ و گربہ ہیں دو ہمارے ہاںدو ہیں قالب اور ان کی ایک ہے جاں

۲

رنگ گربہ سے شیر نر ہے داغآنکھیں اس کی اندھیرے گھر کا چراغ

۳

کھائے نہ جو نہ ہو وہ مادۂ سگبھوکا بیٹھا رہے قیامت لگ

۴

کب مروت سے جائے کھانا چکھلڑے بھی ہے تو منھ پہ پنجہ رکھ

۵

سارے ہمسایوں پر ہے یہ معلومموش کی نسل ہوگئی معدوم

۶

چوہا کیا ہے جو سامنے آوےگھونسوں سے بھی یہ شیر بھڑ جاوے

۷

ان نے جو ماریاں ہیں گھونسیں دھونسموش دشتی ہوا ہے کونے گھونس

۸

گھونس جب فکر ہی میں مرتی ہوموش دشتی پہ کیا گذرتی ہو

۹

کوئی چھچھوندر جو بستی میں یاں ہےسو وہ چوہوں کی مرثیہ خواں ہے

۱۰

ایک دن گھر میں ایک گھونس آئیاپنے پاؤں اجل اسے لائی

۱۱

گھونس کیسی بتاؤں غیرت سونسطاق ہے جس کے آگے طاقت سونس

۱۲

یا کوئی مادہ خوک آبستنیا کسو کچھوے کی برادر زن

۱۳

پھرتی پھرتی جو صحن میں خوش حالپاے دیوار بیٹھی سر کو نکال

۱۴

کہیں اودھر یہ شیر جاتا تھاپھیرتا منھ پہ پنجے آتا تھا

۱۵

پڑ گئی اس کی اس پہ چشم کبودنیلاپیلا ہو تاؤ کھا جوں دود

۱۶

پنجہ جھنجھلا کے ان نے گزرانابارے کچھ گھونس نے اسے جانا

۱۷

پر اسے خوف جاں نہ آیا کچھغالب آیا نہ اس کا سایہ کچھ

۱۸

ٹھک ٹھکایا پھر ان نے جانا توکیونکے تھا یہ تو شیر کا خالو

۱۹

پھر تو بگڑی ہے دونوں میں آکرچوٹ ہوتی تھی داؤ پا پا کر

۲۰

غصہ خرموش کو بھی آن چڑھااتفاق اس جگہ تھا ایک گڑھا

۲۱

دونوں لڑتے ہوئے گرے اس میںکیچ کا گاہتے پھرے اس میں

۲۲

ناخن اس شیر کا کچھ ایک گڑاشور محشر گڑھے کے بیچ پڑا

۲۳

شور کیسا محلے چونک اٹھےسگ بازاری بھونک بھونک اٹھے

۲۴

یاں تو گھر بیچ کیا ہے کیا ہے پڑیگھونس بلی نے چھیچھڑے کردی

۲۵

کھڑے مونچھوں کے بال انگڑاتاشیر نکلا گڑھے سے گھبراتا

۲۶

لیک جی سے تھا سب بدن خالیکیوں کہ سر سے بلا بڑی ٹالی

۲۷

گھونس کے وارثوں کی کیا ہے تابکہ قدم کو رکھیں وے حتی الباب

۲۸

کوئی چھچھوندر اب اس پہ روتی ہےکہ تری لاش خوار ہوتی ہے

۲۹

تو جو تھی ساری قوم کی سردارسو اٹھایا ہے زخم دامن دار

۳۰

ہم بہت غم میں تیرے روویں گےبل کے بل اب خراب ہوویں گے

۳۱

فخر ہے اپنی نسل کا یہ شیرجن نے گھونسوں کے کر دکھائے ڈھیر

۳۲

سنا ہے موش گربہ کا قصہوہ جو ہے گا عبید کا حصہ

۳۳

جس کو باندھا عبید زاکانیلگتی تھی اس کی وہ سگی نانی

۳۴

گربہ تا بود فاسق و فاجرق صید او یک بدے بہ سالانہایں زماں پنج پنج می گیرد

در تعریف مادۂ سگ

۳۵

ہے جو وہ مادہ سگ تماشا ہےدوڑ پڑنے کے وقت باشا ہے

۳۶

کسی کے لقمے پر نہ منھ ڈالاسگ اصحاب کہف کی خالہ

۳۷

نہیں کتوں سی خوار یاں کے یہہے سگوں میں عزیز خاں کے یہ

۳۸

دے ہرن کو بھی جلدی میں بتاہے گا یاں سگ لوند کیا کتا

۳۹

اڑتی چڑیا انھیں نے ماری ہےاستخوان سگ شکاری ہے

۴۰

یہ جو غصے میں آوے تو ہے غضباس کے مارے ہوئے ہیں ہارے سب

۴۱

منھ میں دیتے ہیں اس کے جب مشعلطرفہ دم لابہ کرتی ہے اچپل

۴۲

منھ میں اپنے لیے فتیلے سےسگ لیلیٰ کے ہے قبیلے سے

۴۳

باہم اس کتے بلی کا یہ ربطکوئی دیکھے نہ ہووے اس سے ضبط

۴۴

کبھو جاتا جو ہے یہ کوٹھے پرلگی رہتی ہے اس کی چھت سے نظر

۴۵

اور سے دشمنی جانی ہےاس کی یہ باؤلی دوانی ہے

۴۶

دونوں شوخی سے مار سہتے ہیںسگ و گربہ کی چال رہتے ہیں

۵۰۱ / ۵۸۲