کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر

در تعریف آغا رشید کہ خطاط بود و بہ فرمائش میاں اعزالدین کہ فقیر و خوشنویس بودند

۱

میرؔ خطاط یک قلم دیکھےلیکن آغا سے لوگ کم دیکھے

۲

یعنی عبدالرشید تھا استادخوشنویسی کی جن نے دی ہے داد

۳

خط کی خوبی کا اس کے اب تک ڈھنگصفحۂ روزگار پر ہے رنگ

۴

وہ تصرف کہیں جو کرتا ہےشکل نقاش رنگ بھرتا ہے

۵

حیرت افزا ہے حسن ہر تحریرمشقی اس کی ہے قطعۂ تصویر

۶

خط شیریں جو اس کا پاتے ہیںہم حلاوت بہت اٹھاتے ہیں

۷

لگ گئی ہے قلم تو جادو ہےمد جہاں ہے کسو کی ابرو ہے

۸

سطر لکھتا نہیں خفی کی وہخط ہے خوباں کی پشت لب کا وہ

۹

ایسا لکھنا کسو کی طاقت ہےہے جلی بھی تو ایک بابت ہے

۱۰

خط میں کیسا ہی کوئی کامل ہواس کا کب نقطۂ مقابل ہو

۱۱

حرف کس کس ادا سے لکھتا ہےکون ایسی صفا سے لکھتا ہے

۱۲

ہے الف قامت نکورویاںلام ہے زلف سلسلہ مویاں

۱۳

دال کا خم رہے ہے ایسا خوبجیسے جھکتے ہیں مست ہو محبوب

۱۴

میم جس لطف سے لبالب ہےدہن تنگ مہوشاں کب ہے

۱۵

ہے کشش فاژۂ تن خوباںدائرہ دور دامن خوباں

۱۶

دائرہ نوں کا اس نمط کھینچاکہ خط دلبراں پہ خط کھینچا

۱۷

مدعی کو جو خط دکھادیں ہمجیسے حرف غلط اٹھادیں ہم

۵۰۲ / ۵۸۲