کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر

در بیان کذب

۱

اے جھوٹھ آج شہر میں تیرا ہی دور ہےشیوہ یہی سبھوں کا یہی سب کا طور ہے

۲

اے جھوٹھ تو شعار ہوا ساری خلق کاکیا شہ کا کیا وزیر کا کیا اہل دلق کا

۳

اے جھوٹھ تجھ سے ایک خرابی میں شہر ہےاے جھوٹھ تو غضب ہے قیامت ہے قہر ہے

۴

اے جھوٹھ رفتہ رفتہ ترا ہوگیا رواجتیری متاع باب ہے ہر چار سو میں آج

۵

اے جھوٹھ کیا کہوں کہ بلازیر سر ہے تواے جھوٹھ سچ یہ ہے کہ عجب فتنہ گر ہے تو

۶

اے جھوٹھ کب ہے عرصہ میں تجھ سا حریف ابتیرے ہی حکم کش ہیں وضیع و شریف اب

۷

اے جھوٹھ تیرے شہر میں ہیں تابعیں سبھیمر جائے کیوں نہ کوئی وے سچ بولیں نے کبھی

۸

کہنے سے آج ان کے کوئی دل نہ شاد ہوفردا کہیں تو اس سے قیامت مراد ہو

۹

وعدے گھڑی کے پہروں کے سب آزماچکےبرسوں تک انتظار کیا جی ہی جاچکے

۱۰

اے جھوٹھ رنگ تیرے کرے کوئی کیا بیاںرکھتا ہے جیسے غنچہ زباں تو تہ زباں

۱۱

یوسف کہ تھا نبی و صداقت شعار تھاپھر حسن ظاہری سے بھی باغ و بہار تھا

۱۲

پایان کار تیرے سبب چاک پیرہنزنداں میں جا کے برسوں رہا چھوڑ کر وطن

۱۳

اے جھوٹھ تو تو ایک دل آویز ہے بلاآشوب گاہ تجھ سے زمانہ رہا سدا

۱۴

کس جاں کنی سے کوہ کنی کوہ کن نے کیتصویر کھود شیریں کی پیش نظر رکھی

۱۵

نزدیک جب ہوا کہ وہ مطلوب سے ملےاب صبح و شام غنچۂ مقصود دل کھلے

۱۶

دلالہ کے تو پردے میں آ کام کر گیادو باتوں میں وہ عاشق دل خستہ مر گیا

۱۷

اے جھوٹھ تجھ سے فتنے ہزاروں اٹھا کیےہنگامہ و فساد ہی ہر سو رہا کیے

۱۸

اے جھوٹھ راستی سے نہیں گفتگو کہیںکہنے کو ہاں کہیں ہیں حقیقت میں ہے نہیں

۱۹

اے جھوٹھ اس طرح ہیں بہت جی سے جاچکےوعدوں میں آہ لوگوں کے وعدے ہی آچکے

۲۰

اے جھوٹھ اس زمانے میں کیونکر چلے معاشہے تنگ جھوٹھ بولنے سے عرصۂ تلاش

۲۱

سردار جس سے سب متعلق ہے کاروبارسچ بولنا ہے اس کے تئیں سخت ننگ و عار

۲۲

پھر سب مدار کار دروغی و مفتریصدق و صفا و راستی کے عیب سے بری

۲۳

جھوٹا سوار دولت ابھی کا ہے یہ امیرورنہ قسم کسو کی بھی تھی حرف بارگیر

۲۴

مشکل حصول کام ہے یاں حاصل کلامباتوں ہی باتوں کام ہوا خلق کا تمام

۲۵

اے جھوٹھ دل مرا بھی بہت دردناک ہےان کاذبوں سے صبح نمط جیب چاک ہے

۲۶

اک فرد دستخطی تھی مری ایک شخص پاسدیکھا جو خوب اس کو تو مطلق نہیں حواس

۲۷

تھا میں فقیر پر نہ گیا شاہ کے حضوراتنے لیے کہ رتبۂ عزت مرا ہے دور

۲۸

آداب سلطنت سے نہیں مجھ کو رابطہحرکت نہ ہوئے مجھ سے کوئی غیر ضابطہ

۲۹

مرزائی مجھ سے کھنچتی نہیں ہر عزیز کیپھر شعر و شاعری بھی نہیں ہے تمیز کی

۳۰

صحبت خدا ہی جانے پڑے کیسی اتفاقکیا بات آوے بیچ میں بے رتبگی ہے شاق

۳۱

میں مضطرب گھر اس کے گیا اٹھ کے پانچ بارکہنے لگا زباں سے یہ ہوتے ہی وہ دوچار

۳۲

تقصیر میری اس میں نہ کریے گا کچھ خیالصاحب کہیں خموشی کروں میں یہ کیا مجال

۳۳

لیکن یہ حرف اس بھی سیہ رو کا رکھیے یادانداز سے یہ لوگ سخن کرتے ہیں زیاد

۳۴

بہتیری ایسی فردیں یہ رکھتے ہیں جیب میںرکھتے ہیں یوں ہی لوگوں کو برسوں فریب میں

۳۵

دکھلاؤں گا چلا ہوں سوال آپ کا لیےمیں نے کہا فقیر کہو کس طرح جیے

۳۶

بولا نہ ہوگا سعی میں ایدھر سے کچھ قصورپھر دیکھیے کہ پردے سے کرتا ہے کیا ظہور

۳۷

اک آدھ ایسی بات بناکر کھسک گیادل اس خبر کے سننے سے میرا دھڑک گیا

۳۸

یہ عرضیاں حضور کو بھیجیں میں صبح و شامدستخط جو ہوکے آئے کوئی سو اسی کے نام

۳۹

یعنی وہ اب کی آن کے کچھ دیوے گا شتابدل جمع رکھیں کاہے کو کرتے ہیں اضطراب

۴۰

دو چار بار آیا بھی وہ پر نہ کچھ ہوامجھ کو جو اضطرار تھا میں بے اجل موا

۴۱

مدت مدید گذری مجھے کرتے انتظارخجلت ہوئی جو حال لکھا میں نے بار بار

۴۲

اس فرد دستخطی کو ہے یہ ماہ ہفتمیںتنخواہ کا نہیں ہے ٹھکانہ ابھی کہیں

۴۳

آیا جو وہ لطیفۂ غیبی اب اپنے گھرمیں مضطرب ہو آپ گیا ملنے اس کے گھر

۴۴

بارے نہ اتفاق ہوا یہ کہ ہو ملاپکھویا تھا اضطرار سے عز و وقار آپ

۴۵

گھر آ کے ایک بھائی کو بھیجا پیام دےآئے وے اس کے پاس سے جو کچھ جواب لے

۴۶

حضرت سے کہیو پہلے بہت بندگی مریپھر کہیو اب اترتی ہے شرمندگی مری

۴۷

دو چار دن میں بھیجے گا کچھ گھر ہی آپ کےدرپے نہ اتنے ہوجیے میرے ملاپ کے

۴۸

تب سے وے بھائی جاتے ہیں ہر روز صبح و شاماب تک تو ملتوی ہے زمانے زدے کا کام

۴۹

دن دیکھتے ہیں وعدے کے بھی ہیں بہت قریبپھر ترک شہر کیجیے گا کہہ کے یانصیب

۵۰

برسوں ہوئے مہینوں کے وعدے ہوئے وعیدسچ کہتے ہیں کہ کچھ نہیں ان جھوٹھوں سے بعید

۵۰۳ / ۵۸۲